سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 160
کے نام کھلا خط لکھا جو اخبار The Independent (1) فروری 1989ء) میں شائع ہوا تھا۔اس خط میں پروفیسر موصوف نے یہ راز فاش کر دیا کہ کس طرح رشدی سب سے زیادہ پیسے دینے والے کو اپنا مسودہ دینے پر تیار ہو گیا تھا۔رشدی کو مخاطب ہوتے ہوئے پروفیسر ڈومیٹ نے لکھا: "The Stanic Verses کی اشاعت سے قبل تم برطانیہ کی نسلی اقلیتوں میں ٹیلی ویژن پر برطانوی نسلی پالیسی کی مذمت کرنے پر ہیرو سمجھے جاتے تھے ان لوگوں کے حلقہ سے باہر جنہوں نے تمہاری کتابوں کا مطالعہ کیا تھا یہ تمہارا ہیرو کا مرتبہ تھا جس سے تمہاری کتاب دھوکہ بازی دکھائی دیتی ہے۔تم چاہے کتنا بھی چاہو تم وہ کر دار دوبارہ بھی بھی ادا نہ کر سکو گے۔تم سفید فام تعصب کو ملامت کرنے کا حقدار اب کبھی نہیں بن سکتے کیونکہ اب تم ہم میں سے ایک ہو۔تم اعزازی سفید آدمی بن گئے ہو، دکھاوے کا اعزازی سفید فام دانشور یہ سب کچھ ٹھیک مگر ہر حال میں تم اعزازی ہی رہو گے۔" پروفیسر ڈومیٹ رشدی پر درج ذیل الزام عائد کرتا ہے : "اگر تمہیں اس گہری چوٹ کا احساس نہ تھا جو تم مسلمانوں کو لگانے والے تھے، تو پھر تم اس موضوع پر لکھنے کے حقدار نہ تھے جس کا انتخاب تم نے کیا۔خیر کچھ بھی ہو کوئی شخص ایک برے فعل کے برے نتائج قبل از وقت دیکھ لینے سے محروم رہنے کی وجہ سے اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔لیکن اب تم جانتے ہوئے اس بات پر مصر ہو کہ کتاب کی زیادہ سے زیادہ اشاعت ہو"۔160