سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 15
دیباچہ تقریباً تمام مغربی دنیا اس فتویٰ پر اشتعال میں آگئی تھی جو کہ ایران کے سربراہ آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کی کتاب ”شیطانی آیات شائع ہونے پر جاری کیا تھا۔اس وقت تمام دنیا کے مسلمانوں کے دلی جذبات کی ہتک جو ہوئی اور ٹھیس پہنچی تھی اسے یکسر نظر انداز کرتے ہوئے یہ معاملہ آزادانہ رائے کے اظہار کی طرف موڑ دیا گیا۔اور اسطرح بالخصوص مغربی میڈیا کو از سر نو عالم اسلام اور تمام مسلمانوں پر اعتراض کرنے کا موقع مل گیا۔اسلام کے خلاف دلوں میں دبی ہوئی چنگاری پھر سے بھڑ کنے لگی اور اس وجہ سے اسلام اور مغرب کے درمیان فاصلہ اور بھی بڑھ گیا۔اس ( رشدی افیئر ) کے بھیانک قصّے کے معابعد بہت سے سوالات ہونے بھی تھے اور کئے بھی گئے۔کون تھایا کون تھے جنکے اوپر یہ الزام عائد کیا جا سکتا ہے جو تمام دنیا کو ایک امن کے جھنڈے تلے اکٹھا ہونے میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں؟ کیا آپ کسی ایک انسان کو بے جا آزادی رائے کا حق دے کر کروڑ ہا ملکی باشندوں کے دلوں کو دکھ نہیں پہنچا رہے۔ایک افسانہ کے پردہ میں کیا اس بات کی اجازت ہے کہ جان بوجھ کر شائستگی کی حد کو پار کیا جائے؟ کیا سلمان رشدی واقعی مسلمان تھا؟ وہ اسلام کے بارہ میں کیا علم رکھتا تھا۔اور درحقیقت اسلام کے بارہ میں اس کے کیا احساسات ہیں، اور کس طرح گذشتہ سالوں میں یہ بدل گئے۔کیا شیطانی آیات“ ایک مذہبی بحث ہے یا شروع سے ہی ایک سیاسی ٹائم بم تھا۔خبردار کئے جانے کے بعد بھی کہ The " "Stanic Verses کتاب ایک سنگین صورت اختیار کر جائے گی کہ وہ اس کو سنبھال نہیں سکے گا، کیسے ممکن تھا کہ اکیلا رشدی ساری دنیا سے ٹکر لے سکے اور امید رکھے کہ وہ بیچ نکلے گا۔ان تمام نتائج سے بے نیاز ہو کر وہ کیا چیز تھی جس نے اس کو اپنے اشاعت کے اس فیصلے پر قائم رہنے دیا ؟ 15