سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 148 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 148

اور اس امر پر کہ یہ لوگ کیوں رشدی کے خون کے پیاسے ہو گئے۔جہاں تک مسلمانوں کے جذبات کا تعلق ہے اخبارات نے اس فعل کو طبعی قرار دیا ہے۔لیکن جیسا کہ اس سے پہلے واضح کیا گیا کہ یہ قدامت پسند نقطہ نظر ایک بہت چھوٹی اقلیت کا ہے۔سچی بات دراصل یہ ہے کہ اخبارات میں جذبات کو ابھارنے والی سرخیاں لگانے سے اور کتابوں کے جلائے جانے کی تصاویر شائع کرنے سے اخبارات دھڑا دھڑ سکتے ہیں۔مثلاً برطانیہ کے اخبار 'دی انڈی پینڈنٹ' کی 18 فروری 1989ء کی اشاعت میں ایک پورا صفحہ بریڈ فورڈ کے نوجوان تشدد پسند مسلمانوں کے بیانات سے بھرا ہوا تھا۔اس کا عنوان تھا، مجاہد خون ریزی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔لیکن ایسے مسلمان جنہوں نے رشدی پر قتل کے فتوی کی حمایت نہ کی تھی ان کے شائستہ اور معقول خیالات کو چھوٹے چھوٹے حروف میں اخبار کے آخر پر شائع کیا گیا۔اخبار مذکور کے صحافی انٹونی برجس ( Anthony Burgess ) نے ایرانی فتوی کا موازنہ اسلام کے ابد معاش ٹولوں کی شاطرانہ چالوں سے کیا۔اس نے اسلامی قوانین کی مذمت کرنے میں موزوں الفاظ کے انتخاب کا خیال نہ رکھا۔ہمارے نزدیک اس کو اپنے خیالات کے اظہار کا یقیناً حق حاصل ہے لیکن اس کے مضمون کے لب ولہجہ سے اسلام کے لئے شدید نفرت کی بو آتی ہے۔وہ لکھتا ہے : ان کو (مسلمانوں کو ) رشدی کی کتاب ضائع کر دینے کے بارہ میں بیانات دینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔اگر ان کو ہماری غیر مذہبی سوسائٹی پسند نہیں تو ان کو آیت اللہ کی بانہوں میں چلے جانا چاہئے۔یا کسی اور خود ساختہ پاکباز کے پاس جو اسلامی اخلاق کا کڑا محافظ ہو۔" (1989-2-16 )۔یوں لگتا ہے جیسے یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ مسلمان کسی دوسرے کرہ سے یہاں آئے ہیں جن کی تعلیمات اور عقائد باقی ماندہ مہذب دنیا سے میل نہیں کھاتے۔مذہب اور کلچر لیبر پارٹی کے ایک سابق سیاست دان ، ٹیلی ویژن براڈ کاسٹر، رابرٹ کلرائے سلک (Robert Kilroy-Silk) نے بھی ایسے ہی دکھ پہچانے والے بیانات مسلمانوں کے خلاف دئے۔دی ٹائمنر کی 17 فروری 1989ء کی اشاعت میں اس کے شائع ہو نیوالے خیالات سے 148)