حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 3
سے ہوئی ( آپ نے ابھی اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان نہیں کیا تھا) تو آپ نے حضور کو بہت نیک اور پاک سیرت پایا اور اپنی دور اندیٹی کی وجہ سے یہ اندازہ کر لیا کہ آپ ہی اس زمانہ کے مصلح اور مسیح موعود ہوں گے اور اس بات کی تائید میں ایک رسالہ نکالا۔اس میں ایک نظم بھی لکھی جس کا ایک شعر یوں ہے۔سب مریضوں کی ہے تمہیں پہ نگاہ تم مسیحا بنو خدا کے لئے حضرت صوفی احمد جان صاحب افغان شہزادوں کی اولاد میں سے تھے۔یہ خاندان نا معلوم وقت میں افغانستان سے ہجرت کر کے لدھیانہ آکر آباد ہوا۔اس خاندان میں دین و دنیا کا علم رکھنے والے بزرگ ہر زمانہ میں موجود رہے اس لئے حضرت صوفی احمد جان صاحب کے بھی بہت سارے مرید تھے اور لوگ آپ کی بیعت کیا کرتے تھے۔جب آپ نے اپنے مریدوں کے ساتھ حج کیلئے تشریف لے جانے کا ارادہ کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو ایک دعا لکھ کر دی کہ خانہ کعبہ میں کھڑے ہو کر انہی الفاظ میں میری یہ دعا پڑھیں۔چنانچہ آپ نے اپنے مریدوں کو اکٹھا کر کے وہاں دعا پڑھی۔حج سے واپسی پر آپ کی وفات ہوگئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب مسیح موعود علیہ اسلام ہونے کا دعوی کیا اور بیعت لینے کی اللہ تعالی کی طرف سے اجازت ہوئی تو آپ نے پہلی بیعت لدھیانہ میں حضرت صوفی احمد جان صاحب