حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 32 of 41

حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 32

32 میز بانوں کو بھی۔جیسے ماموں جان کی متلاشی کتنی ہی آنکھیں آپ کو جلسہ گاہ نہ پا کر غمناک لوٹ جاتی ہیں اور کتنے دل آپ کے ہجر کی تلفی کو ہر سال ہر بارمحسوس کرتے ہیں۔مگر اب تو یہ کڑوے دوہرائے جانے والے گھونٹ کچھ زیادہ ہی ہو گئے۔اب تو کچھ اور آنکھیں ایک اور وجود کو بھی تر سا کریں گی ! ! ! اے ازلی اور ابدی جو مہمان نواز کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ، جو شاکر کے لئے شکور ہے اس فردوسی جوڑے کو ہمیشہ ہمیش کیلئے اپنی خاص الخاص مہمانیوں سے نوازتا رہ! کہ یہ دونوں ہی تیرے مہمانوں کی میزبانی کیا کرتے تھے۔یہ دونوں ہی لا وارث میموں کے ماں اور باپ بن جاتے تھے۔ان دونوں نے تیرے فاقہ کش بندوں کو کھانا کھلایا۔اے آقا! اور اے مربی! انہوں نے اُن بچوں کی تربیت کی جن کا تیری دنیا کے بندوں میں کوئی مربی نہ تھا۔پس تو ان کے رہے ہوئے کاموں کا خود کفیل ہو جا ! فهل جزاء الاحسان الالاحسان‘(12) آپ نے اپنے بچوں میں بھی دین کی خدمت کا شوق پیدا کر دیا تھا۔آپ کے تقریباً سب بچوں کو خدمت دین کی توفیق ملی۔آپ کی بڑی صاحبزادی سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ اور سیدہ بشری بیگم صاحبہ کو بھی اپنی والدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ایک لمبے عرصہ تک قیامگاہ مستورات (وہ جگہ جہاں جلسہ کی عورتیں آکر ٹھہرتی تھیں) کے انتظام کو سنبھالنے کی توفیق ملی۔سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ نے جنرل سیکرٹری اور نائب صدر