حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 7
7 سادے سفید کاغذ لگوائے تھے۔دوران درس آپ کوئی بھی نئی بات سنتیں، اُس کو نوٹ کر لیتیں۔جس بات کا علم نہ ہوتا اس کو پوچھ لینے میں ہرگز عار محسوس نہ کرتیں۔جب آپ کے جڑواں بچے پیدا ہوئے جو بعد میں فوت ہو گئے تھے تو آپ اُن دو ننھے منھے بچوں سمیت قرآن مجید کا درس سننے مسجد جایا کرتیں۔چنانچہ یہ پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ تا وفات جاری رہا۔آپ کے آباء چونکہ افغانستان سے آئے تھے۔اس لئے گھر میں فارسی بولی جاتی تھی۔عربی زبان بھی آپ اچھی طرح بول اور لکھ لیتی تھیں۔1928ء میں آپ نے 'مولوی کا امتحان دیا جبکہ آپ کے پانچ بچے پیدا ہو چکے تھے۔یہ ایک دینیات کلاس کا امتحان ہے ، جو یونیورسٹی سے دیا جاتا ہے ) اُس میں آپ فرسٹ آئیں اور جولڑ کا دوم آیا اُس کے نمبر آپ کے نمبروں سے پورے 100 کم تھے۔(1) جماعت میں اپنے بڑے بیٹے سید میر داؤد احمد صاحب کے نام سے لوگ آپ کو اُم داؤد کہتے تھے اور خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں سب آپ کو چھوٹی ممانی جان کے نام سے پکارتے تھے۔کیونکہ آپ کے شوہر حضرت میر محمد اسحق صاحب حضرت اماں جان سیدہ نصرت جہاں نوراللہ مرقدھا کے بھائی اور آپ کے بچوں کے ماموں تھے۔حضرت اُم داؤد کی وفات پر حضرت مرزا طاہر احمد صاحب جو ابھی