سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 834 of 900

سیر روحانی — Page 834

تخت نشین ہوا مگر وہ ملک کا انتظام نہ سنبھال سکا۔امراء نے ۱۲۱۱ء میں شمس الدین التمش کو بلا کر بادشاہ بنا دیا۔ناصر الدین قباچہ اور تاج الدین یلدوز کے مخالفانہ ہنگاموں نے اتمش کے لئے پریشانی پیدا کی پھر جلال الدین خوارزم شاہ بھی ہندوستان آ گیا۔التمش نے بڑے تدبر سے خوارزم شاہ کو روکا اس کے بعد قباچہ اور بلدوز دونوں کو شکست دیکر بنگال پر دہلی کا اقتدار قائم کیا۔وسط ہند میں فتوحات کیں ۱۲۲۹ء میں خلیفہ بغداد سے خلعتِ سلطانی حاصل کی۔بڑا بیدار مغز، با تدبیر، عادل اور حق شناس حکمران تھا ان ہزاروں مسلمانوں کو فراخ دلی سے پناہ دی جو تاتاریوں کی یورش میں بے خانماں ہو کر ہندوستان آئے تھے۔سلطان شمس الدین التمش (۱۲۳۶/۵۶۳۳ء) کا مقبرہ (جس نے مسجد قوت الاسلام اور قطب مینار بنوایا ) مسجد قوت الاسلام کے قریب ہے۔باہر سنگِ خارا، اندرسنگِ سُرخ اور کہیں کہیں سنگ مرمر لگا ہوا ہے۔دیواروں پر خط کوفی میں آیات قرآنی کندہ ہیں اس پر گنبد بھی تھا جودیکھ بھال نہ ہو سکنے کے باعث مسمار ہو گیا۔خواجہ نظام الدین اولیاء (دہلی) ۶۳۲ھ۔۱۸اریج الآخر ۷۲۵ھ (۱۹ اکتوبر ۱۲۳۷ء۔۲ مارچ ۱۳۲۴ء) ممتاز صوفی بزرگ اسم مبارک سید محمد بن سید احمد بن سید دانیال ، غرف نظام الدین، لقب نظام الاولیاء، محبوب الہی تھا۔سلسلۂ نسب حضرت امام حسین تک پہنچتا ہے ان کے داد اعلی بخاری اور نا نا خواجہ عرب بخارا سے ہجرت کر کے بدایوں میں مقیم ہوئے۔والد کا انتقال ان کے پچپن ہی میں ہو گیا والدہ نے تربیت کی۔پھر ا جو دھن (پاکپٹن ) جا کر شیخ فرید الدین گنج شکر کے مرید ہوئے۔دہلی آکر محلہ غیاث پور میں مستقل سکونت اختیار کی۔اللہ تعالیٰ نے انہیں کمال جذب و فیض عطا فرمایا تھا۔آپ کے خلفاء نے اطراف ہند میں جا بجا فیوض روحانی وعلمی کے مرکز قائم کر دیئے۔حضرت امیر خسرو اُن کے خلیفہ اجل تھے۔فوائد الفواد فصل الفؤاد، راحتُ المُحِبين اور سیر الاولیاء اُن کی اہم تصانیف ہیں۔بچپن میں مسجد محلہ سوتہ ( بدایون) میں بیٹھ کر مطالعہ فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ اس مسجد میں ایک طاقچہ بطور آپ کی یاد گار محفوظ ہے، مزار مبارک بستی نظام الدین اولیاء میں ہے۔پرانا قلعہ (دہلی) پرانا قلعہ نئی دہلی کی حدود میں ایک پتھریلی پہاڑی پر واقع ہے اور وسطی دور کے عسکری فن تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے۔ہمایوں نے اسے تعمیر کرایا تھا اور پھر شیر شاہ سوری نے اس میں کچھ ترامیم کرائیں۔یہ ایک مضبوط لیکن سادہ تعمیر ہے اور اس کا ہر ایک حصہ اپنی ذات میں ایک مضبوط حصار ہے۔بعد میں تعمیر ہونے والے خوبصورت محلات پر مشتمل مغلیہ قلعوں سے یہ بہت مختلف ہے کیونکہ اس میں کوئی محل اور تفریحی اور انتظامی تعمیرات پر مشتمل بلڈنگ نہیں بنائی گئی