سیر روحانی — Page 777
222 بعلبک میں محل دیکھا جو ایک سو پچاس ستونوں پر بنا ہوا ہے اور ان ستونوں پر کئی بڑے بڑے کمرے اور برآمدے بنے ہوئے ہیں۔اور قرآن کریم نے بھی یہی بتایا تھا کہ وہ ستونوں پر اپنی عمارتیں کھڑا کیا کرتے تھے۔معلوم ہوتا ہے اُن دنوں فنِ تعمیر اپنے عروج پر تھا۔گویا قرآن کریم میں علم تاریخ کے علاوہ علم تعمیر بھی آگیا۔اسی طرح قوم ثمود کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے انةٌ أَهْلَكَ عَادَا إِلَّا وَلَىٰ ۚ وَثَمُودَأَ فَمَا أَبْقَى " ج یعنی اُس خدا نے پہلی عاد قوم کو ہلاک کیا تھا اور پھر ان کے بعد ثمود کو بھی اُس نے ہلاک کیا اور عذاب نے ان کا کچھ بھی نہ چھوڑا۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خمود، عاد قوم میں سے نکلے تھے۔چنانچہ نئے آثار جو اب اردن میں پائے گئے ہیں وہ خمود کے ہی معلوم ہوتے ہیں کیونکہ وہ آثار کسی متمدن قوم کے ہی ہیں۔پس تاریخ عالم کو بھی قرآن کریم نے اپنے اندر خلاصہ بیان کر دیا ہے۔نیچرل ہسٹری پر قرآن کریم کی روشنی اسی طرح دنیا میں ایک علم نیچرل ہسٹری (NATURAL HISTORY) کا پایا جاتا ہے۔جس کے ماتحت شہد کی مکھیوں اور چیونٹیوں وغیرہ کے متعلق بڑی وسیع تحقیق کی گئی ہے۔اس علم پر قرآن کریم نے بھی روشنی ڈالی ہے۔اور شہد کی مکھی کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ ہم نے خود اس کے ظرف کے مطابق اس کی طرف وحی کی کہ پہاڑوں یا درختوں یا عرشوں پر اپنا گھر بنا اور پھر ہر قسم کے پھلوں میں سے تھوڑا تھوڑا لے کر کھا اور لوگوں کے لئے شہد تیا ر کر۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ شہد کی مکھیاں بھی مختلف قسم کی ہیں۔اُن میں سے بعض پہاڑوں میں چھتے بناتی ہیں، بعض درختوں پر چھتے بناتی ہیں اور بعض عرشوں پر جو انگوروں وغیرہ کے لئے تیار کئے جاتے ہیں چھتے بناتی ہیں۔۲۳ اور پھر مکھی اُس استعداد باطنی سے کام لے کر جو خدا تعالیٰ نے اس کے اندر پیدا کی ہے مختلف پھلوں اور پھولوں وغیرہ سے غذاء حاصل کرتی اور شہد تیار کرتی ہے جو مختلف رنگوں اور مختلف اقسام کا ہوتا ہے مگر باوجود مختلف اقسام ہونے کے ان سب میں یہ بات مشترک طور پائی جاتی ہے کہ شہد لوگوں کے لئے شفاء کا موجب ہوتا ہے اور مختلف قسم کے امراض کو دور کرنے کے کام آتا ہے۔۲۴ علم نباتات کے متعلق قرآن کریم کا ایک اہم انکشاف اسی طرح علم نباتات بھی ایک علم ہے جس پر