سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 776 of 900

سیر روحانی — Page 776

22Y دونوں کو بچالیتے مگر تو چونکہ ڈوبتے وقت ایمان لایا ہے اسلئے ہم اس وقت تجھ پر یہ احسان تو نہیں کر سکتے کہ ہم تیری رُوح کو بچائیں کیونکہ موت کے وقت تیرا ایمان لانا کافی نہیں اب ہم تجھ سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ تیرے جسم کو بچالیا جائے گا تا تیرا نشان قائم رہے اور خدا تعالیٰ کی قدرت کو ظاہر کرتا رہے۔چنانچہ اب انیسویں صدی میں آثار قدیمہ کی تحقیق کرنے والوں کو فرعون کی لاش مل گئی ہے اور اُسے مصر کے عجائب گھر میں میں نے خود دیکھا ہے۔بعد میں اس لاش کولنڈن لے جایا گیا تھا لیکن اب سُنا ہے کہ پھر مصر آ گئی ہے۔پس یہ زبر دست ثبوت اس بات کا ہے کہ قرآن کریم میں جو تاریخ عالم پائی جاتی ہے دنیا کی کوئی تاریخ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔بائبل کا دعوی ہے کہ وہ حضرت موسی علیہ السلام کے وقت کی تاریخ بیان کرتی ہے لیکن وہ فرعون کے جسم کے بچائے جانے کے متعلق بالکل خاموش ہے مگر قرآن کریم جو موسیٰ علیہ السلام کے دو ہزار سال بعد آیا ان واقعات کو بیان کرتا ہے جو بائبل میں مذکور نہیں اور تاریخ ان واقعات کی تصدیق کرتی ہے یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ قرآن کریم کو نازل کرنے والا وہ خدا ہے جس سے زمین و آسمان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔قرآن کریم میں بعض قدیم اقوام کی تاریخ کا ذکر پھر قرآن کریم میں انبیاء کی تاریخ کے علاوہ قوموں کی تاریخ بھی بیان ہوئی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ عاد قوم کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ : إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِى لَمْ يُخْلَقُ مِثْلُهَا فِي الْبَلَادِ۔کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے رب نے عاد سے کیا معاملہ کیا تھا یعنی عادارم سے جو بڑی بڑی عمارتوں والے تھے اور جن کی مانند کوئی قوم ان ملکوں میں پیدا ہی نہیں کی گئی تھی۔اس آیت میں قوم عاد کی اس خصوصیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ بڑے بڑے محلات بناتی تھی جن کو ستونوں پر کھڑا کیا جاتا تھا۔چنانچہ لعل انہی لوگوں کا دیوتا تھا اور بعلبک انہی لوگوں کا بسایا ہوا شہر تھا جو لبنان کی سرحد پر واقع ہے۔میں ۱۹۵۵ء میں جب بیمار ہوا اور لنڈن گیا تو چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے ساتھ بعلبک بھی گیا تھا۔جرجی زیدان جو بڑا سخت عیسائی مؤرخ ہے وہ بھی اپنی کتاب العرب قبل الاسلام میں یہ لکھنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ عاد قوم کے متعلق تاریخ کی سینکڑوں صفحات کی کتابیں اس سے زیادہ معلومات بیان نہیں کر سکیں جتنی معلومات قرآن کریم نے چند الفاظ میں بیان کر دی ہیں۔میں نے خود عاد قوم کا