سیر روحانی — Page 755
۷۵۵ چنے کھانے کی وجہ سے آپ کی صحت خراب ہو گئی ہو۔اب تو وہ زمانہ گزر گیا لیکن اگر ہم اُس زمانہ میں ہوتے تو اپنی جانیں قربان کر کے بھی آپ کے لئے کھانا مہیا کرتے اور چنے نہ کھانے دیتے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں ماش کی دال کھا رہا تھا کہ مجھے دال کھاتے ہوئے حضرت خلیفہ اول نے دیکھ لیا اور فرمانے لگے۔میاں ! دال بھی کوئی کھانے کی چیز ہوتی ہے۔خبردار! پھر کبھی دال نہ کھانا۔مگر اُدھر خدا کا مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام ) ایسا تھا کہ اٹھائیں تمہیں سال اس کی زندگی کے ایسے گزرے ہیں جن میں وہ روزانہ پیسے کے چنے بھنوا کر کھا لیتا تھا اور اپنا کھانا لوگوں کو کھلا دیتا جو دین سیکھنے کے لئے آتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر خدائی انعامات جب بعد میں اللہ تعالی کے فضل آپ پر نازل ہونے شروع ہوئے اور قرآنی لنگر نے آپ کے لئے اپنے دروازے کھول دیئے تو آپ نے فرمایا۔لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أُكُلِي وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الَا هَالِى ۲۹ کہ اے لوگو! میری حالت پر غور کرو۔کبھی تو ایسا تھا کہ میری بھاوج گھر کے بچے ہوئے ٹکڑے مجھے بھیجا کرتی تھی لیکن قرآنی لنگر کی برکتوں کی وجہ سے آج بہت سے خاندان میرے ذریعہ سے پل رہے ہیں۔اس میں اشارہ ہے اُن مہاجرین کی طرف جو اپنا وطن چھوڑ کر قادیان آگئے تھے۔یا جو آج اپنا وطن چھوڑ کر سینکڑوں مہاجروں کی صورت میں یہاں بس رہے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قائم کردہ لنگر اُن کو پال رہا ہے۔غرض آج بھی وہی قرآنی لنگر جاری ہے اور آپ لوگ سارا سال بھی اور جلسہ کے دنوں میں بھی اس قرآنی لنگر سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے جاری ہوا تھا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔وہ مسیح موعود جو ہزاروں ایکڑ زمین اور چھ گاؤں کا واحد مالک ہونے کے باوجود آپ لوگوں کی خاطر غریب بن گیا تھا تا کہ قرآنی لنگر کی کوئی روٹی آپ کے لئے بھی لے آوے آپ کے لئے بڑا بھاری نمونہ ہے۔اگر آپ اس زندگی پر غور کریں تو یقینا آپ نہایت آسانی کے ساتھ ولی اللہ بن سکتے ہیں۔گفار کو بھی اپنا لنگر جاری کرنیکی ہدایت پھر قرآن کریم نے اس نظر کو اتنا وسع کر دیا ہے لنگر کہ کفار کو بھی دعوت دی ہے کہ اس لنگر کو جاری رکھیں ورنہ انہیں سزا سے ڈرایا ہے۔چنانچہ سورہ ماعون میں آتا ہے اَرَعَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ