سیر روحانی — Page 55
رہ گیا۔اسی طرح شریعت میں بھی پہلے ظاہری و باطنی احکام میں ارتقاء ہو الیکن آخر میں ظاہری شریعت حد کمال کو پہنچ گئی اور اب صرف باطنی ارتقاء باقی ہے جس کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے۔پس ہم دونوں طرف سے ارتقاء کے قائل ہیں جسمانی طرف سے بھی اور روحانی طرف سے بھی۔اور ہم گو یہ ایمان رکھتے ہیں کہ محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ شریعت اپنی تکمیل کو پہنچ گئی مگر ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے اندر غیر محدود معارف و حقائق کے خزانے ہیں اور قرآن کریم کی کے معارف کا یہ باطنی ارتقاء بند نہیں ہوا بلکہ قیامت تک جاری ہے چنانچہ ہم اس کا نمونہ اپنی ذات میں دیکھ رہے ہیں کہ جو معارف قرآنیہ ہم پر کھلے ہیں وہ پہلے مفتروں پر نہیں گھلے۔خلاصہ یہ کہ اسلام نے آدم کے آثار قدیمہ اس رنگ میں ظاہر کئے ہیں کہ ان کی مثال کسی اور جگہ نہیں پائی جاتی۔اسی طرح حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کے بارہ میں زبردست انکشاف اس نے کئے ہیں۔مگر سر دست میں اس مضمون کو چھوڑ کر بعض دیگر انکشافات کی کو لیتا ہوں جو مختلف انبیاء کے بارہ میں قرآن کریم نے کئے ہیں۔حضرت ہارون علیہ السلام کے متعلق قرآنی انکشاف میں قرآنی آثارِ قدیمہ کے اُس کمرہ کو دیکھنے کے بعد عالم تحصیل میں الہی آثار قدیمہ کے ایک اور کمرہ میں چلا گیا اور وہاں میں نے ایک اور عجیب نشان دیکھا۔مجھے دکھائی دیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ ہے اور آپ کے بھائی ہارون علیہ السلام کہ وہ خود بھی نبی تھے اپنی قوم کو مخاطب ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں۔يَنقَوْمِ إِنَّمَا فُتِنْتُم بِهِ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَنُ فَاتَّبِعُونِى وَ أَطِيعُوا اَمْرِى ) اے میری قوم! تم ایک ابتلاء میں ڈالے گئے ہو تم میری پیروی کرو اور جو کچھ میں کہتا ہوں اُس کی اطاعت کرو۔میں نے سمجھا کہ کوئی فتنہ ہے جو اُس زمانہ میں پیدا ہوا۔پھر میں نے اپنے دل میں کہا آؤ میں معلوم تو کروں اُس وقت کیا فتنہ اُٹھا تھا۔مگر میں نے فیصلہ کیا کہ پہلے میں اُس کتاب کو دیکھوں جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہا السلام کے زمانہ سے چلی آتی ہے اور اُسے پڑھ کر معلوم کروں کہ اُس میں کیا لکھا ہے۔چنانچہ میں نے تو رات اُٹھائی اور اُسے پڑھنا شروع کیا تو اس میں لکھا تھا :- اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ پہاڑ سے اُترنے میں دیری کرتا ہے تو وے ہارون کے پاس جمع ہوئے اور اُسے کہا کہ اُٹھ ہمارے لئے معبود بنا کہ ہمارے آگے چلیں۔کیونکہ یہ مرد موسیٰ جو ہمیں مصر کے ملک سے نکال لایا ہم نہیں جانتے کہ اُسے کیا