سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 900

سیر روحانی — Page 53

۵۳ ہزاروں برس گزر چکے تھے آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ :- مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روح حق آئیگا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا، ۵۰ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ تک بھی ابھی لوگوں کی حالت ایسی نہیں ہوئی تھی کہ وہ کامل شریعت کو سمجھ سکتے اور اس بات کی ضرورت تھی کہ اُن کے لئے نسبتا نامکمل انکشاف ہو۔یہ ارتقاء جو الہام اور شریعت میں ہو ا ہے اس بات کا یقینی اور قطعی ثبوت ہے کہ انسان کی جسمانی ترقی بھی ارتقائی تھی اگر یکدم ترقی کر کے انسان کامل بن گیا ہوتا تو پہلے ہی دن اس کے لئے کامل شریعت کا نزول ہو جاتا۔60 یہ عجیب بات ہے کہ آجکل آرین خیالات کے لوگ اسلام پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اسلام ارتقاء کا قائل نہیں اور یہ کہ مسلمانوں نے مسئلہ ارتقاء کارڈ کیا ہے حالانکہ اسلام ہی ہے جو جسمانی اور روحانی دونوں قسم کے ارتقاء کا قائل ہے اس کے مقابلہ میں آرین خیالات الہام کے متعلق قطعاً غیر ارتقائی ہیں۔چنانچہ آریہ مذہب کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتدائے عالم میں ہی ایک مکمل الہامی کتاب بنی نوع انسان کی راہنمائی کے لئے نازل فرما دی۔یہ عقیدہ بتاتا ہے کہ آریہ مذہب نہ صرف رُوحانی ارتقاء کا قائل نہیں بلکہ جسمانی ارتقاء کا بھی قائل نہیں کیونکہ اگر ابتداء میں انسان عقلی لحاظ سے کمزور تھا تو کامل الہامی کتاب کا نزول اس کے لئے بے فائدہ تھا اور اگر پہلے روز وہ اُسی طرح کامل انسان تھا جس طرح آج ہے تو معلوم ہوا کہ آرین عقائد کے رُو سے انسان کی پیدائش جسمانی ارتقاء کے ماتحت نہیں ہوئی۔غرض آرین خیالات اس بارہ میں قطعاً غیر ارتقائی ہیں اور وہ اسلام پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔اس کے مقابلہ میں سمیٹک (SEMITIC) یعنی سامی نسلیں رُوحانی ارتقاء کی قائل ہیں اور یہ عقیدہ رکھتی ہیں کہ پہلے حضرت آدم آئے ، پھر حضرت نوح آئے جنہوں نے کئی روحانی انکشافات کئے پھر حضرت ابراہیم آئے ، پھر حضرت موسی آئے اور ان سب نے کئی روحانی انکشاف کئے۔پس سامی نسلیں ہی ہیں جو ارتقاء کو تسلیم کرتی چلی آئی ہیں، مگر عجیب بات یہ ہے کہ سامی نسلوں پر ہی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ ارتقاء کی قائل نہیں اور جو اعتراض کر نیوالے ہیں ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے ارتقاء کا انکار کرتے چلے آئے ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے فرانسیسی درسی کتب میں قصہ لکھتے ہیں کہ ایک فرانسیسی لڑکا اپنے کسی دوست سے ملنے گیا۔اس کے پاس ایک لقو تھا اُس نے