سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 727 of 900

سیر روحانی — Page 727

۷۲۷ کوششوں کے، باوجود اس کے کہ سب نے اکٹھا ہو کر حملہ کیا اللہ تعالی سینہ سپر ہو کر کھڑا ہو گیا کہ میں محمد رسول اللہ کے باغ کو نہیں اُجڑ نے دونگا۔یہ تو باڑ ہے محمد رسول اللہ کے باغ کی۔مسیح موعود کو تم ایک انسان سمجھتے ہو مگر فرمایا میں جانتا ہوں کہ یہ محمد رسول اللہ کے باغ کی باڑ ہے اس کے کٹنے سے محمد رسول اللہ کا باغ اُجڑتا ہے اور محمد رسول اللہ میرا محبوب ہے۔میں اپنے محبوب کی وفات کے بعد اُس کے باغ کو دشمنوں کو اُجاڑ نے نہیں دونگا۔تم مولوی ہو یا عالم ہو یا لیڈر ہو میں تمہاری کیا پرواہ کرتا ہوں۔میں محمد رسول اللہ کی جوتیوں کے برابر بھی تم کو نہیں سمجھتا۔محمد رسول اللہ کے باغ یعنی اُس کی امت کی حفاظت کے لئے میں اسکو زندہ رکھونگا اور یہ ایک اور جماعت کھڑی کرے گا جس طرح کیلے کے ساتھ اور کیلے پیدا ہو جاتے ہیں اسی طرح تم تو کہتے ہو کہ اس کے جو مرید ہیں وہ شیطان ہیں اور ابلیس کے فرزند ہیں مگر میں بتاؤں گا کہ یہ ملائکہ ہیں جو محمد رسول اللہ کے باغ کی حفاظت کے لئے آئے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی تدبیر سے مسیح موعود اور پھر اُن کی جماعت کے ذریعہ سے محمد رسول اللہ کے باغ کی باڑ کاٹے جانے سے بچ گئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ اس اُمت کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے جس کے اول میں ہوں اور آخر میں مسیح موعود - ۲۸ یعنی میرے باغ کے ایک طرف باڑ میں ہوں اور ایک طرف مسیح موعود۔نہ خدا مجھے کٹنے دے گا کہ میرا باغ اُجڑے ، نہ خدا مسیح موعود کو کٹنے دے گا کہ میرا باغ اُجڑے۔ہم دونوں کے کاٹے جانے سے باغ محمد کی اُجڑتا ہے اور یہ باغ خدا کا لگایا ہوا ہے خدا اپنے لگائے ہوئے باغ کو اُجڑنے نہیں دے گا۔میں بھی باڑ ہوں اس باغ محمدی کی اور مسیح موعود بھی باڑ ہے اس باغ محمدی کی نہ وہ مجھے کٹنے دے گا اور نہ وہ مسیح موعود کو کتنے دے گا وہ باغ محمدی کو آباد رکھنے کے لئے اُس کی باڑ کو سلامت رکھے گا اور قیامت تک وہ باغ چلے گا اور اس کو کوئی نہیں کاٹ سکے گا۔آب دیکھو باغ محمدی کے مقابلہ میں دنیوی بادشاہوں کے بے حقیقت باغات ایک طرف ڈ نیوی بادشاہوں کے باغ ہیں، وہ کتنے چھوٹے ہیں اور کتنی کم عمر کے ہیں دوسری طرف قرآنی محمدی باغ ہیں۔پھر ایک باغ دو باغ ہیں اور ان کی عمر اتنی لمبی ہے کہ محمد رسول اللہ سے لے کر قیامت تک ممتد ہے۔پس کجا وہ دنیوی بادشاہوں کے باغ جو میں نے ۱۹۳۸ء میں دیکھے