سیر روحانی — Page 726
لگا، ایک خیلی رحمتہ اللہ علیہ کا لگا، ایک ابراہیم ادھم رحمتہ اللہ علیہ کا لگا، ایک محی الدین صاحب ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ کا لگا، ایک امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کا لگا، ایک ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کا لگا، ایک بہاؤ الدین صاحب نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک معین الدین صاحب چشتی رحمتہ اللہ کا لگا ، ایک سلیم چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا لگا، ایک قطب الدین صاحب بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کا لگا، ایک فرید الدین صاحب شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک نظام الدین صاحب اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک حضرت باقی باللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کا لگا ، ایک مجدد صاحب سرہندی رحمتہ اللہ علیہ کا لگا، ایک شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک خواجہ میر ناصر رحمتہ اللہ علیہ کا لگا، ایک خواجہ میر درد رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک سید احمد صاحب بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا اور سب سے آخر میں باغ محمد مکی کی حفاظت کرنے والے درخت مسیح موعود کا پودا لگا جس کو خود مسلمانوں نے بدقسمتی سے کاٹ کر چاہا کہ محمد کی باغ میں لوگ گھس جائیں، بکریاں اور بھیڑیں گھس جائیں اور محمد کی باغ کو تباہ کر دیں۔مگر وہ پودا اس شان کا تھا کہ اُس نے کہا:- اے آنکہ سوئے من بدویدی بصد تبر از باغبان بترس که من شارخ مشمرم و شخص ! جو کہ سو کلہاڑے لیکر میرے کاٹنے کے لئے دوڑا آ رہا ہے میرے باغبان خدا سے یا محمد رسول اللہ سے ڈر کہ میں وہ شاخ ہوں جس کو پھل لگے ہوئے ہیں اگر تو مجھے کالے گا تو محمد رسول اللہ کا پھل کٹ جائے گا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ محمد رسول اللہ کا باغ ہے شمر رہ جائے گا۔پس تو مجھے نہیں کاٹ رہا تو محمد رسول اللہ کے باغ کو اُجاڑ رہا ہے اور خدا بھی برداشت نہیں کرے گا کہ محمد رسول اللہ کا باغ اُجڑے وہ ضرور اُس کی حفاظت کرے گا۔چنانچہ آسمان محمد رسول اللہ کے باغ کی حفاظت کے لئے خدا تعالیٰ کی تجلیات سے اللہ تعالیٰ مسیح موعود کی حفاظت کے لئے اُترا اور با وجود مولوی عبدالجبار ، مولوی عبدالحق، مولوی احمد بن عبداللہ غزنوی، مولوی عبد الواحد بن عبد اللہ غزنوی، مولوی محمد حسین بٹالوی ، مولوی ثناء اللہ امرتسری اور اور سینکڑوں ہزاروں مولویوں اور مولوی نذیر حسین دہلوی کے فتووں اور دیو بندیوں کے جوش کے اور جمعیتہ العلماء کی تمام طاقتوں کے اور ۱۹۵۳ء کا فساد پیدا کرنے والے علماء کی