سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 680 of 900

سیر روحانی — Page 680

۶۸۰ انجیل میں روحانی خوراک اور روحانی پانی کے محاورہ کا استعمال پھر یہ محاورہ صرف قرآن کریم میں ہی نہیں بلکہ انجیل میں بھی بیان ہوا ہے۔انجیل میں لکھا ہے کہ : 66 دوسھوں نے ایک ہی روحانی خوراک کھائی اور سکھوں نے ایک ہی روحانی پانی پیا کیونکہ انہوں نے اُس روحانی چٹان میں سے جو اُن کے ساتھ چلی پانی پیا اور وہ چٹان مسیح تھی۔1 ان آیات قرآنیہ اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور انجیل کے حوالہ سے بات ثابت ہے کہ روحانی کتابوں میں پانی سے مراد علم روحانی ہوتا ہے اور اس کی مشابہت میں کبھی دنیوی علوم بھی مراد ہوتے ہیں۔مگر دیکھو کہ قرآن کریم کے علم اور مسیح کے حواریوں کے علم میں کتنا عظیم الشان فرق ہے۔قرآن تو کہتا ہے کہ چٹان کے پیچھے پانی ہوتا ہے جو چٹان کو پھاڑ کر نکل آتا ہے اور مسیح کے حواری کہتے ہیں کہ : - دد سبھوں نے ایک ہی روحانی پانی پیا کیونکہ انہوں نے اُس روحانی چٹان میں سے جو اُن کے ساتھ چلی پانی پیا۔“ یہ ایک خیالی مثال ہے جس کی کوئی تصدیق نہیں ملتی لیکن چٹانوں کے پیچھے سے پانی کے چشمے نکلنے کی تو ہر پہاڑ پر مثالیں موجود ہیں پس یہ ایک کچی اور طبعی مثال ہے مگر انجیل کی مثال نہایت مضحکہ خیز ہے۔انجیل کہتی ہے کہ انہوں نے اُس روحانی چٹان میں سے جو ان کے ساتھ چلی پانی پیا۔“ اب بتاؤ وہ کونسی چٹان ہے جو ساتھ ساتھ چلتی ہے اور لوگ اُس سے پانی پیتے ہیں کوئی بھی نہیں لیکن جن چٹانوں کا قرآن کریم ذکر کرتا ہے ایسی ہزاروں چٹانیں موجود ہیں اور ہر شخص جانتا ہے کہ وہ چٹا نہیں پھٹتی ہیں تو اُن کے پیچھے سے پانی نکل پڑتا ہے۔" پھر مسیحیوں نے بڑا زور مارا تو کہا کہ وہ چٹان مسیح تھی۔“ جو اُن کے ساتھ ساتھ چلی اور جس کے پیچھے سے انہوں نے پانی پیا۔مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ ہر مؤمن خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ایک چٹان ہوتا ہے جس کے پیچھے پانی ہوتا ہے اور جس سے لوگ فائدہ حاصل کرتے ہیں۔گویا قرآن کریم اس پانی کو ہر انسان کے دل تک پہنچاتا ہے اور انجیل والے اس کو صرف مسیح پر پہنچ کر ختم کر دیتے ہیں۔