سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 900

سیر روحانی — Page 48

۴۸ کہتا کہ گورنمنٹ نے بُرا کیا لیکن اُس زمانہ میں یہ ایک نیا قانون تھا اور فرشتوں کے لئے قابل حیرت۔پس فرشتے بطور سوال اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ پہلے تو قتل کو نا جائز سمجھا جاتا تھا مگر اب قتل کی ایک جائز صورت بھی پیدا کر لی گئی ہے یا پہلے تو دوسروں کو اپنے گھروں سے نکالنا جرم سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اس کی ایک جائز صورت بھی نکل آئی ہے اور آدم جب یہی فعل کرے گا تو اس کا فعل جائز اور مستحسن سمجھا جائے گا۔اللہ تعالیٰ اگلی آیت میں اُن کے اسی سوال کا جواب دیتا اور فرماتا ہے کہ تمہیں علم نہیں ، دنیا میں نظام کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ مجرموں کو سزائیں دی جائیں اگر ان کو سزائیں نہ دی جائیں تو کارخانہ عالم بالکل درہم برہم ہو جائے تو اَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اُس وقت جرائم کی سزا بھی مقرر ہو چکی تھی۔(۱۰)۔یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت شادی کے احکام بھی نازل ہو چکے تھے کیونکہ آدم کی بیوی کا ذکر کیا گیا ہے، گویا مرد و عورت کے تعلقات کو ایک قانون کے ماتحت کر دیا گیا تھا۔پیدائش انسانی کے متعلق قرآنی آثار قدیمہ کا خلاصہ خلاصہ یہ کہ قرآنی آثار قدیمہ نے ابتدائے خلق کا ذکر یوں کیا ہے کہ مخلوق خالق کے حکم سے بنی ہے۔پہلے باریک ذرات تیار ہوئے ، پھر پانی نے الگ شکل اختیار کی پھر وہ خشک ذرات سے مرکب ہوا ، اور ایک قوتِ نامیہ پیدا ہوئی۔اس سے مختلف تغیرات کے بعد حیوان پیدا ہوا ، حیوان آخر نطفہ سے پیدا ہونے والا وجود بنا یعنی نر ، مادہ کا امتیاز پیدا ہو ا، اس کے بعد ایک خاص حیوان نے ترقی کی اور عقلی حیوان بنا۔مگر گو عقل تھی مگر تھا ناری ، تمدن کے قبول کرنے کی طاقت اس میں نہ تھی ، غاروں میں رہتا تھا۔اس کے بعد ایسا انسان بنا جو تمدن کا اہل تھا اسے الہام ہونا شروع ہوا اور وہ پہلا تمدن صرف اتنا تھا کہ (۱) نکاح کرو (۲) قتل نہ کرو (۳) فساد نہ کرو (۴) ننگے نہ رہو (۵) ایک دوسرے کی کھانے پینے ، پہننے اور رہائش کے معاملہ میں مدد کرو (1) اللہ تعالیٰ سے دعا کر لیا کرو (۷) ایک شخص کو اپنا حاکم تسلیم کرلو اور اُس کے ہر حکم کی اطاعت کرو اور اگر تم اس کے کسی حکم کو توڑو تو تم سزا برداشت کرنے کے لئے تیار رہو۔یہ اُس وقت کی گورنمنٹ تھی اور یہی اس گورنمنٹ کا قانون تھا اور یہ علم جو میں نے تو