سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 900

سیر روحانی — Page 47

وقت کہا تھا کہ میرے پاس تو اس سے بھی بڑھ کر چیزیں ہیں میں ان تحفوں سے کیونکر متاثر ہو سکتا ہوں۔پس جب حضرت سلیمان علیہ السلام کہتے ہیں کہ میرے پاس ملکہ سبا سے بڑھ کر مال و دولت اور سامان موجود ہے اور اس کے باوجود ہد ہر کہتا ہے کہ أُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيءٍ ملکہ سبا کو ہر چیز میسر تھی تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ أُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سے یہ مراد نہیں تھی کہ ملکہ سبا کو ہر نعمت میسر تھی بلکہ یہ مراد تھی کہ اس کی مملکت کے لحاظ سے جس قدر چیزوں کی ضرورت ہو سکتی تھی وہ تمام چیزیں اُسے حاصل تھیں اسی طرح عَلَّمَ ادَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا سے یہ مراد ہے کہ اُس وقت جس قدر علوم کی ضرورت تھی وہ تمام آدم کو سکھا دیئے گئے مثلاً یہ بتا دیا گیا کہ فلاں فلاں زہریلی بوٹیاں ہیں ان کو کوئی شخص استعمال نہ کرے، یا فلاں زہریلی چیز اگر کوئی غلطی سے کھالے تو فلاں بوٹی اس کی تریاق ہو سکتی ہے یا ممکن ہے اسی طرح طاقت کی بعض دوائیں الہامی طور پر بتا دی گئی ہوں۔اسی طرح بعض اخلاقی احکام بھی حضرت آدم علیہ السلام کو الہا ما بتائے گئے ہوں۔(۸)۔آٹھویں انہیں ایک واجب الاطاعت امیر ماننے کا بھی حکم تھا، جیسا کہ اِنِّی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً " کے الفاظ سے ظاہر ہے۔(۹)۔یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانہ میں بعض ایسے احکام بھی نازل ہوئے تھے جن میں یہ ذکر تھا کہ تمہیں بعض جرائم کی سزا بھی دینی چاہئے جیسے قتل وغیرہ ہیں۔اس امر کا استنباط اَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ کے الفاظ سے ہوتا ہے۔یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ سے کہتے ہیں کہ اب دنیا میں ایک عجیب سلسلہ شروع ہو جائے گا کہ بعض آدمیوں کو قانونی طور پر یہ اختیار دے دیا جائے گا کہ وہ دوسروں کو مار ڈالیں ، جیسے ہر گورنمنٹ آجکل قاتلوں کو پھانسی دیتی ہے مگر گورنمنٹ کے پھانسی دینے کو بُرا انہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کی تعریف کی جاتی ہے لیکن اگر کوئی اور قتل کر دیتا ہے تو اُسے سخت مجرم سمجھا جاتا ہے۔فرشتوں کے لئے یہی بات حیرت کا موجب ہوئی اور انہوں نے کہا ، ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ پہلے تو قتل کو ناجائز سمجھا جاتا تھا مگر اب آدم جب کسی کو قتل کی سزا میں قتل کر دے گا تو اس کا یہ فعل اچھا سمجھا جائے گا۔کوئی اور گھر سے نکال دے تو وہ مُجرم سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر آدم کسی کو جلا وطنی کی سزا دے گا تو یہ جائز سمجھا جائے گا۔اس زمانہ میں روزانہ ایسا ہی ہوتا ہے گورنمنٹ مجرموں کو پھانسی پر لٹکاتی ہے مگر کوئی اُسے ظالم نہیں کہتا ، وہ لوگوں کو جلا وطنی کی سزا دیتی ہے مگر کوئی نہیں