سیر روحانی — Page 671
۶۷۱ بھی وہ خرابی نہیں کر سکتے تھے جو بابلیوں اور رومیوں نے کی۔یہ عجیب لطیفہ اور قوموں کی ناشکری کی یوروپین مؤرخین کی تعصب آلود ذہنیت مثال ہے کہ بابلیوں نے یہودیوں کے ملک کو تباہ کیا اور ان کی مسجد کو ذلیل کیا۔یوروپین مصنف کتابیں لکھتے ہیں تو بابلیوں کو کوئی گالی نہیں دیتا، کوئی ان کو بُر انہیں کہتا، کوئی ان پر الزام نہیں لگاتا۔رومیوں نے اس ملک کو لیا اور اس مسجد میں خنزیر کی قربانیاں کیں۔عیسائی رومی تاریخ پر کتابیں لکھتے ہیں۔مثلاً گہن نے ”دی ڈیکلائن اینڈ فال آف دی رومن ایمپائر (The Decline and Fall of the Roman Empire) لکھی ہے مگر جتنی کتابوں کو دیکھ لو وہ کہتے ہیں رومن ایمپائر جیسی اچھی ایمپائر کوئی نہیں حالانکہ انہوں نے اُن کی مسجد کو گندہ کیا مگر وہ قوم جس نے اُن کی مسجد کو گندہ نہیں کیا اُس کو گالیاں دی جاتی ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عمررؓ کے روادارانہ سلوک کا ایک ایمان افروز نمونہ کے زمانہ میں فلسطین فتح ہوا اور جس وقت آپ یروشلم گئے تو یروشلم کے پادریوں نے باہر نکل کر شہر کی کنجیاں آپ کے حوالے کیں اور کہا کہ آپ اب ہمارے بادشاہ ہیں آپ مسجد میں آ کے دو نفل پڑھ لیں تا کہ آپ کو تسلی ہو جائے کہ آپ نے ہماری مقدس جگہ میں جو آپ کی بھی مقدس جگہ ہے نماز پڑھ لی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہاری مسجد میں داخل ہو کر اس لئے نماز نہیں پڑھتا کہ میں ان کا خلیفہ ہوں گل کو یہ مسلمان اس مسجد کو چھین لیں گے اور کہیں گے یہ ہماری مقدس جگہ ہے۔اس لئے میں باہر ہی نماز پڑھوں گا تاکہ تمہاری مسجد نہ چھینی جائے ۲۸ پس ایک تو وہ تھے جنہوں نے وہاں خنزیر کی قربانی کی اور یورپ کا منہ ان کی تعریفیں کرتے ہوئے خشک ہوتا ہے اور ایک وہ تھا جس نے مسجد میں دو نفل پڑھنے سے بھی انکار کیا کہ کہیں مسلمان کسی وقت یہ مسجد نہ چھین لیں اور اس کو رات دن گالیاں دی جاتی ہیں۔کتنی ناشکر گزار اور بے حیا قوم ہے۔اب مسلمانوں کے پاس یہودیوں کی بجائے مسلمانوں کو فلسطین کیوں دیا گیا؟ فلسطین آجانے کے بعد سوال ہوسکتا ہے کہ وہ یہودیوں کے پاس تو نہ رہا، موسوی سلسلہ کے پاس بھی نہ رہا، یہ کیا معمہ ہے؟ لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ اعتراض اصل میں نہیں پڑتا اس لئے کہ بعض دفعہ جھگڑا ہوتا ہے وارث آ جاتے ہیں تو بچے وارث کہتے ہیں ہم ان کے وارث ہیں۔یہی صورت اس جگہ واقع ہوئی کی