سیر روحانی — Page 656
ہونگی ، کچھ غلطیاں اُس سے بھی صادر ہوئی ہونگی، کچھ کمزوریاں اُس سے بھی ہوئی ہونگی مگر يُكَفِّرُ عَنْهُ سَيَاتِهِ ہم کہیں گے اُس تمام جگہ پر جہاں بُرے کام درج ہیں چیپیاں لگا دو تا کہ انہیں کوئی نہ دیکھے۔لغت میں لکھا ہے کہ التَّكْفِيرُ سَتَرَهُ وَ تُغَطِيْهِ حَتَّى يَصِيرَ بِمَنْزِلَةِ مَالَمْ يَعْمَل که تکفیر کے معنے ہوتے ہیں ڈھانپ دینا اور اُس پر پردہ ڈال دینا ایسی صورت میں کہ یہ پتہ لگانا ناممکن ہو جائے کہ اس نے فلاں کام کیا تھا تو يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيَاتِهِ اللہ تعالیٰ فوراً حکم دیگا کہ یہاں چیپیاں لگا دی جائیں تا کہ یہ یہ جگہ سامنے آئے تو پتہ ہی نہ لگے کہ اس نے یہ کام کیا تھا۔اس طرح بتایا گیا کہ صرف امکان ہی نہیں ہے بلکہ وقوعہ بھی یہی ہوگا کہ مؤمن اور نیک عمل کرنے والے اور تائب کی غلطیوں پر چیپیاں لگا کر انہیں چھپا دیا جائے گا اور کسی کو پتہ نہیں لگے گا کہ اس نے کوئی گناہ کیا ہے۔اگر چیپیاں نہ لگی ہوتیں تو مؤمن کیوں کہتا اگر مؤمن کی غلطیوں پر پردہ نہ ڈالا جاتا کہ هَاؤُمُ اقْرَءُ وُا كِتَبِيَهُ آؤ ذرا میرا تو وہ اپنے اعمالنامہ پر فخر کس طرح کر سکتا الانامہ پڑھو۔اگر پڑھاتا تو ساتھ ہوراں بھی نکل آتیں اور اگر اعمالنامہ میں بدیاں بھی لکھی ہوئی ہو تیں تو چاہے اُسے جنت ہی ملی ہوتی وہ اُسے اپنی بغل میں دبا لیتا اور کہتا مجھے جنت ملی ہے مجھے انعام ملا ہے۔اگر کوئی کہتا ذرا کتاب دکھانا تو جواب دیتا نہیں نہیں ! میں پھر دکھاؤنگا۔کیونکہ وہ ڈرتا کہ دیکھے گا تو بیچ میں بدیاں بھی نکل آئیں گی۔مگر چونکہ بدیوں پر چیپیاں لگی ہوئی ہونگی اس لئے وہ کہے گا هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتبيَة ارے میاں ! آؤ اور میری کتاب دیکھو میرے اندر کوئی عیب نہیں ہے۔اعلیٰ درجہ کے مومنوں کی بدیاں بھی اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جہاں کچھ لوگوں کی غلطیوں کو چھپا دیا جائے گا۔وہاں کچھ نیکیوں میں بدل دی جائیں گی ایسے بھی اعلی درجہ کے لوگ ہو تھے کہ ان کی صحبت اور قربانی اور تو بہ کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ صرف اُن کی بدیوں کو چھپائے گا ہی نہیں بلکہ اُنکی بدی کی جگہ نیکی لکھ دیگا۔چنانچہ فرماتا ہے يُبَدِّلُ اللهُ سَيَاتِهِمْ حَسَنَتٍ كل كام کچھ ایسے مؤمن ہونگے کہ اُن کے اعلیٰ درجہ کو دیکھ کر ، اُن کے تقویٰ کو دیکھ کر ، اُن کی تو بہ