سیر روحانی — Page 648
۶۴۸ لَا كَبِيرَةً إِلَّا أَخطهَا۔یہ قسمت اور اعمالنامہ کی کیسی کتاب ہے کہ نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑتی ہے نہ بڑی چھوڑتی ہے۔ساری کی ساری اس میں موجود ہیں۔وَ وَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا۔اور جس طرح وہ قدیم سے موجود تھا اسی طرح وہ حال میں بھی اُسے دیکھیں گے۔وہ خدا کے سامنے لاکھوں سال کے بعد یا سینکڑوں اور ہزاروں سال کے بعد پیش ہونگے مگر وہ دیکھیں گے کہ اُس میں سب کچھ پہلے سے لکھا ہوا موجود ہے۔وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا اور خدا تعالیٰ اپنے پاس سے کوئی سزا نہیں دیگا بلکہ اُن کے مُجرموں کے مطابق انہیں سزا دیگا۔عالم روحانی میں ہر مجرم کے لئے دس گواہ پیش کئے جائیں گے گویا اس دفتر میں چار گواہیاں ہوگئیں۔ایک تو فرشتوں کی ڈائری پیش کی گئی۔ایک ہاتھ ، پاؤں ، آنکھ ، کان ، زبان اور جلد کا ریکارڈ پیش ہوا۔تیسرے خدا نے کہا میں خود بھی دیکھ رہا تھا مجھے فرشتوں کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔چوتھے پرانا ازل کا چٹھا پیش ہوا اور انہیں کہا گیا کہ یہ تو ہمیشہ سے علم الہی میں موجود تھا چنانچہ دیکھ لو یہ لکھا ہوا ہے۔ہماری شریعت نے اس دنیا میں بڑے سے بڑے گناہ کی چار گواہیاں مقرر کی ہیں مثلاً زنا ہے اس کے لئے لکھا ہے کہ چار گواہ ہوں۔باقی گواہیوں میں سے بعض دو دو سے ہو جاتی ہیں اور بعض جگہ ایک گواہ سے بھی گواہی ہو جاتی ہے۔مگر خدا کے سامنے اتنا انصاف کیا جائے گا کہ وہ چار گواہ ایسے پیش کئے جائیں گے جو نہایت معتبر ہونگے۔اوّل فرشتوں کی گواہی جو ایک نہیں بلکہ دو ہو نگے گویا اس ایک گواہی میں دو گواہیاں آگئیں، پھر ریکار ڈ آ گیا اس ریکارڈ میں بھی چھ گواہ ہیں آنکھ ، کان ، زبان، جلد، ہاتھ اور پاؤں یہ چھ گواہ ہو نگے جن کی گواہی ہوگی۔گویا آٹھ گواہ ہو گئے۔پھر خدا نواں گواہ اور دسواں علیم از لی۔غرض دس گواہوں کے ساتھ وہاں چھوٹے سے چھوٹے جُرم کی سزا دی جائیگی حالانکہ اس دنیا میں دو دو گواہ اور وہ بھی جو آٹھ آٹھ آنے لے کر قرآن اُٹھا لیتے ہیں، اُن کی گواہیوں پر فیصلہ ہو جاتا ہے۔ہمارے بڑے بھائی مرزا دُنیا میں آٹھ آنہ کے گواہوں پر مقدمات کا فیصلہ سلطان احمد صاحب جو بعد میں احمدی ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو اُن کا نوکری کرنا پسند نہیں تھا لیکن ان کو نوکری کا شوق تھا۔چنانچہ وہ نوکر ہوئے اور آخر ڈپٹی کمشنر ہو کر ریٹائر ہوئے۔اُن دِنوں