سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 647 of 900

سیر روحانی — Page 647

۶۴۷ خدا عَالِمُ الْغَیب ہے تو فرشتوں کی کیا ضرورت ہے؟ فرماتا ہے فرشتوں کی تمہارے لئے ضرورت ہے اس کے لئے ضرورت نہیں۔چنانچہ جب وہ قاضی القضاۃ ان مجرموں کو کچا چٹھا سنانا شروع کرے گا تو ان پر یہ راز کھلے گا کہ وہ اپنے ہزاروں اعمال بُھول گئے تھے اب اس ا بیان سے بُھولی ہوئی باتیں انہیں پھر یاد آنی شروع ہونگی۔اس کے بعد فرماتا ہے کہ اُن ڈائریوں کے علاوہ خدا تعالیٰ کے علم از لی کی شہادت جو فرشتوں نے لکھ رکھی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہم نے جو کچھ تم کو بتایا ہے اس کے علاوہ بھی ہم تمہیں یہ بتاتے ہیں کہ ہمارا کیسا علم ہے۔اب تک تو ہم نے یہ بتایا ہے کہ تم نے جب کام کئے تھے تو ہم دیکھ رہے تھے اور ہم کو سب کچھ پتہ تھا فرشتوں کی ہمیں ضرورت نہیں تھی۔مگر اب ہم تمہیں یہ بتاتے ہیں کہ جب تم نے یہ کام کئے بھی نہیں تھے تب بھی ہم نے ازل سے ہی تمہارے یہ کام لکھے ہوئے تھے اس لئے ہمیں تمہارے فعل کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ہمارا علم از لی بتا رہا تھا کہ تم نے گل کو یہ فعل کرنا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے وَ وُضِعَ الْكِتَبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَ يَقُولُونَ يَوَيْلَتَنَا مَالِ هذَا الْكِتَبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَّ لَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَهَا ۚ وَ وَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا اور جس دن خدا کے ازلی علم کی کتاب پیش کی جائیگی اور کہا جائے گا کہ دیکھو! تم تو اب پیدا ہوئے اور تم سے اب عمل سرزد ہوئے اور خدا کے علم میں آئے لیکن خدا کو از لی طور پر بھی ہمیشہ سے اس کا علم تھا۔اور اس نے پہلے سے تمہارا یہ حساب لکھا ہو ا تھا کہ فلاں پیدا ہوگا ، فلاں چوری کرے گا اور فلاں نیک ہوگا۔یہ علم ازلی خدا ان کے سامنے رکھے گا اور اُن سے کہے گا کہ دیکھ لو یہ ہمارا آج کا علم نہیں بلکہ ہمیں ہمیشہ سے یہ علم تھا پس ہمیں کسی فرشتہ کی ضرورت نہیں۔فرشتے نے تو اُس دن معلوم کیا جس دن تم نے وہ فعل کیا اور ہمارے حاضر علم میں یہ اُس دن بات آئی جس دن تم نے وہ فعل کیا مگر ہمارے ازلی علم میں بیدار بوں ارب سال پہلے سے موجود تھی اور ہمیں پتہ تھا کہ تم نے یہ کام کرنا ہے۔اُس وقت مجرم اُس کو دیکھ کر ڈر رہے ہونگے اور وہ کہیں گے يُوَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَبِ۔ارے ! ہم تو مر گئے۔يَوَيْلَتَنَا ایسا ہی ہے جیسے کہتے ہیں۔میری ماں مرے۔ہماری زبان کے اس محاورہ کے مقابلہ میں عربی زبان کا محاورہ ہے يويلتنا۔ارے ہلاکت میرے اوپر آ کر پڑ گئی مَالِ هَذَا الْكِتَبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً و