سیر روحانی — Page 593
۵۹۳ پناہ لیتا ہے، غریب بے چارے اُس کے سایہ میں بیٹھتے ہیں اور تم لوگ لڑنے والوں سے لڑنے کے لئے جار ہے ہو۔اس لئے نہیں جار ہے کہ وہ قوم سایہ سے بھی محروم ہو جائے اِس لئے اُن کو نہیں کا ٹنا۔پھر فرمایا۔وَلَا تَهْدِمُوا بِنَاءً " کوئی عمارت نہ گرانا کیونکہ ان کے گرانے سے لوگ بے گھر ہو جائیں گے اور ان کو تکلیف ہوگی۔۵۶ اب دیکھو پچھلے فسادات میں کتنے مکان جلائے گئے۔لاہور میں ہزاروں مکان جلائے گئے ، امرتسر میں ہزاروں مکان مسلمانوں کے جلائے گئے ، بلکہ کوئی شہر بھی ایسا نہیں جس میں مسلمانوں کے مکانات دس ہیں یا تمیں فیصدی نہ جلائے گئے ہوں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔لَا تَهْدِمُوا بِنَاء۔ایک مکان بھی تم کو گرانے کی اجازت نہیں کیونکہ تم اس لئے نہیں جا ر ہے کہ لوگوں کو بے گھر کر دو بلکہ اسلئے جا رہے ہو کہ ظلم کا ازالہ کرو اس سے آگے تم نے کوئی قدم نہیں اُٹھا نا۔اسی طرح آپ کی دوسری ہدایات میں ہے کہ ملک میں ڈر اور خوف پیدا نہ کرنا۔فوجیں جاتی ہیں تو اُن کی یہی غرض ہوتی ہے کہ لوگوں کو وہ اتنا ڈرائیں کہ اُن کی جان نکل جائے۔چنانچہ ۲۰- ۱۹۱۹ء میں امرتسر میں ایک جگہ جنرل ڈائر کے ہندوستانیوں پر مظالم کی عیسائی عورت کوکسی ہندوستانی نے پر ذرا سا مذاق کر دیا۔اُس وقت انگریزی حکومت نے جنرل ڈائر کو مقرر کیا اور اُس نے حکم دیا کہ ہر شریف سے شریف اور بڑے سے بڑا آدمی یہاں سے گزرے تو گھسٹتا ہوا جائے۔بڑے بڑے لیڈروں کو سپاہی پکڑ کر گرا دیتے تھے اور اُسے کہتے تھے کہ یہاں سے گھٹتا ہوا چل۔پھر مُجرم پیش ہوتے تھے تو انہیں بغیر کسی تحقیق کے بڑی بڑی سزائیں دی جاتیں تا لوگوں میں خوف پیدا ہو۔ہمارے ساتھ ایک عجیب واقعہ گزرا۔ایک شخص نے ایک انگریز مجسٹریٹ کا واقعہ انگریز آفیسر سے لڑائی کی تھی۔مسٹر مانٹیگو جو پہلے وزیر ہند تھے انہوں نے خود ذکر کیا کہ یہاں ایک انگریز افسر تھا وہ کسی سے ذرا ئرش کلامی سے بولا تھا تو ہم نے اُسے پہلی سزادی تھی۔اس سے پہلے کسی افسر کو سزا نہیں دی تھی۔وہی اُن دنوں بدل کے وزیر آباد میں لگا تھا۔حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی شہر میں اچھا رسوخ رکھتے تھے اور لوگوں کے ساتھ اُن کا حُسنِ سلوک تھا۔مسلمانوں میں سے اکثر اُن کے شاگرد تھے اور ہندو