سیر روحانی — Page 592
۵۹۲ حملوں میں بچے مارے گئے اور ایسے ایسے ظالمانہ طور پر قتل کئے گئے کہ بچوں کے پیٹوں میں نیزے مار مار کے انہیں قتل کیا گیا۔ہم نے اُسوقت تصویر میں لی تھیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ بچوں کے ناک کاٹے ہوئے ہیں کان چرے ہوئے ہیں پیٹ چرا ہوا ہے انتڑیاں باہر نکلی ہوئی ہیں اور وہ تڑپ رہے ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچے چھ چھ مہینہ کے اور سال سال کے تھے جن پر یہ ظلم کیا گیا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لَا تَقْتُلُوا وَلِيْدًا اِن لوگوں نے تمہارے بچوں کو مارا ہے اِن لوگوں نے تمہاری عورتوں کو مارا ہے، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ایک مسلمان عورت کا ایک پیر ایک اونٹ سے باندھ دیا اور دوسرا پاؤں دوسرے سے باندھ دیا اور پھر دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف چلا دیا تھا اور پھر چیر کے مار ڈالا تھا، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے مسلمان عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار مار کر اُن کو مارا تھا، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی پر جب کہ وہ مدینہ جانے لگیں اور وہ حاملہ تھی حملہ کیا اور اونٹ کی رسی کاٹ دی جس سے وہ زمین پر گر گئیں اور ان کا حمل ساقط ہو گیا اور پھر وہ مدینہ میں فوت ہو گئیں، یہ وہ لوگ تھے جن سے بدلہ لینے کے لئے مسلمان نکلے تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بیشک انہوں نے بچوں کو مارا تھا لیکن تم نے نہیں مارنا ، انہوں نے غیر لڑنے والوں کو مارا تھا لیکن تم نے نہیں مارنا۔سیرۃ حلبیہ میں اس کے علاوہ یہ نصیحت بھی درج ہے کہ آپ نے فرمایا۔لَا تَقْتُلُوا امراة ال عورت کو بھی نہیں مارنا۔پھر فرما یا ولا كبيرا فانسیا ۵۲ کسی بڑھے کو نہیں مارنا۔پھر فرما يا وَلَا مُعْتَزِلاً بِصَوْمَعَةٍ ۵۳ کوئی عبادت گزار ہو مسجدوں یا تکیوں میں بیٹھا ہوا ہو اس کو بھی نہیں مارنا۔اب دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ان کو نہ مارنے کا حکم دیا ہے مگر یہاں گیانی چن چن کر مارے گئے اور وہاں مولوی چن چن کر مارے گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کو نہیں چھیڑ نا یہ تو خدا کا نام لے رہے ہیں۔کیا تم خدا کا نام مٹانا چاہتے ہو؟ چاہے کسی طرح لیتے ہیں لیکن لیتے تو خدا کا نام ہیں اسلئے ان کو نہیں چھیڑنا۔پھر فرماتے ہیں۔وَلَا تَقْرَبُوا نَخْلاً - ۵۴ کھجور کے درخت کے قریب بھی نہ جاؤ۔یعنی اُنکو نہ کاٹ دینا کہ کسی طرح دشمن کو تباہ کریں کیونکہ تم اُن کو تباہ کرنے نہیں جا رہے صرف اُن کے ضرر کو دور کرنے کے لئے جا رہے ہو تمہارا یہ کام نہیں کہ اُن کی روزی بند کر دو۔پھر فرمایا وَلَا تَقْطَعُوا شَجَرًا ۵۵ بلکہ کوئی درخت بھی نہ کاٹو۔کیونکہ مسافر بیچارہ اس کے نیچے