سیر روحانی — Page 575
کسی کا حق ماریں بلکہ لوگوں کو اچھی باتوں کی تعلیم دیں ، بُری باتوں سے روکیں اور لوگوں پر اس طرح روپیہ خرچ کریں کہ ملک ترقی کرے۔زکوۃ کے معنے ترقی کے بھی ہوتے ہیں پس زکوۃ دینے کے یہ معنے ہیں کہ ملکی ترقی کے لئے کوشش کریں اور خدا تعالیٰ کیلئے اپنے آپکو بنا دیں تو فرماتا ہے تمہارے دس، سو پر غالب آ سکتے ہیں گویا سات کروڑ پاکستانی مسلمان ۷۰ کروڑ پر غالب آسکتے ہیں اورہ سے کروڑ کی حکومت دنیا میں کوئی نہیں۔بڑی سے بڑی حکومت پچاس کروڑ کی ہے تو گویا اس کے معنے یہ ہیں کہ اگر صرف پاکستان کے مسلمان ہی ایسے بن جائیں تو وہ دنیا کی بڑی سے بڑی حکومت کو شکست دے سکتے ہیں اور ساری دنیا کے مسلمان، عیسائی کہتے ہیں کہ چالیس کروڑ ہیں اور مسلمان کہتے ہیں ساٹھ کروڑ ہیں۔اس حساب سے اگر چالیس کروڑ بھی تسلیم کریں تو چار ارب پر یہ مسلمان غالب آ سکتے ہیں بشرطیکہ وہ اُس قسم کے مسلمان بن جائیں جس قسم کے مسلمان بننے کے لئے قرآن کہتا ہے۔اور اگر وہ ساٹھ کروڑ ہوں جیسا کہ مسلمان کہتے ہیں تو اس صورت میں چھ ارب پر غالب آ سکتے ہیں لیکن دنیا کی ساری آبادی سوا دو ارب ہے۔گویا اگر مسلمان ساری دنیا سے بھی لڑیں تو قرآنی وعدہ کے مطابق دنیا کی آبادی اگر دگنی بھی ہو جائے تب بھی وہ اُن پر غالب آ سکتے ہیں۔یہ کتنی عظیم الشان بات ہے لیکن اس کے باوجود مسلمان کیوں کمزور ہیں؟ اِس لئے کہ وہ اُن شرطوں کو پورا نہیں کرتے۔ان شرطوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہماری مدد تمہیں تب حاصل ہو گی جبکہ تم میرے لئے لوگوں کی دشمنی سہیڑ و، میرے نام کو روکنے کے لئے لوگوں کی دشمنی نہ کرو بلکہ میری خاطر لوگوں کی دشمنی سہیڑ و۔لوگوں کے ظلم سہو اور دنیا میں جو لوگ میرا نام لینے والے ہیں چاہے وہ عیسائی ہو کے میرا نام لیں، چاہے وہ یہودی ہو کے میرا نام لیں یا مجوسی ہو کر میرا نام لیں جب بھی کوئی میرا نام لے تو کہو ہاں یہ تو ہمارے خدا کا نام لے رہا ہے۔گویا نمایاں چیز بتا دی ہے کہ کونسے اخلاق کے بعد خدا کی مدد آتی ہے اور فرماتا ہے تم اس لئے غالب آؤ گے کہ وہ نہیں سمجھتے یعنی جو تعلیم تمہیں دی گئی ہے اس کے خلاف وہ غیر اسلامی تعلیم پر عامل ہیں۔اسلام کہتا ہے کہ تم کسی پر ظلم نہ کرو لیکن غیر اسلام کہتا ہے کہ سب پر ظلم کرو اس میں تمہارا فائدہ ہے، اسلام کہتا ہے کہ تم کسی کی حُریت ضمیر میں دخل نہ دو اور غیر مذاہب یہ کہتے ہیں کہ بے شک حریت ضمیر میں دخل دو، اسلام یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص خدا کا نام لیتا ہے تو چاہے وہ ہندو ہو ، عیسائی ہو ، یہودی ہوکسی قوم کا ہوا سکو موقع دو اور کہو کہ تو بے شک نام لے لیکن غیر اسلامی کہتے ہیں کہ اگر ہمارے گرجے میں خدا کا نام لیتا ہے تو ٹھیک