سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 900

سیر روحانی — Page 574

۵۷۴ دنیا میں حکومت دی جائے تو یہ نمازیں قائم کریں گے اور ز کو تیں دیں گے اور امر بالمعروف کریں گے اور بُری باتوں سے لوگوں کو روکیں گے۔وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ اور چونکہ یہ دنیا میں پھر خدا کی حکومت قائم کریں گے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کولڑائی کی اجازت دے دی جائے۔اسلام آزادی ضمیر کو چلنے کی اجازت نہیں دیتا یہ قرآن کریم نے نہیں آئندہ کے لئے سبق دیا ہے صرف اُس زمانہ ج کی بات نہیں بلکہ قرآن شریف نے پیشگوئی بیان کی ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے ہم کو یہ بتایا ہے کہ اگر مسلمان بچے طور پر مسلمان بنیں اور اس تعلیم پر عمل کریں جو خدا تعالیٰ نے بیان کی ہے اگر لوگوں کے ظلم برداشت کریں اور آپ ظالم نہ بنیں ، حریت ضمیر دیں حریت ضمیر چھینیں نہیں ، مسجدوں کو گرائیں نہیں ، معبدوں کو بند نہ کریں بلکہ ہر ایک کو مذہب کی آزادی دیں دُنیا میں انصاف اور امن کو قائم رکھیں اور ہر ایک کو اس کا حق دیں تو كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةٌ باذن الله ایسی قوم کو اللہ تعالیٰ تھوڑے ہونے اور بے سامان ہونے کے باوجود زیادہ تعداد والوں اور سامان والوں پر غلبہ دے دیا کرتا ہے۔گویا اگر پاکستانی اس قسم کے مسلمان بن جائیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ اِنْ يَّكُنُ مِنْكُمُ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ، وَاِنْ يَّكُنُ مِنْكُمُ مِائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمُ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ ٣٥ یعنی اگر تم میں سے ہیں صابر ہوں تو وہ دو سو آدمی پر غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سے ایک سو ایسا ہو تو وہ ایک ہزار پر غالب آ جائے کیونکہ وہ سمجھتے نہیں تم سمجھتے ہو ( میں آگے چل کر بتاؤ نگا کہ سمجھنے اور نہ سمجھنے کا مطلب کیا ہے ) اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک عام قانون بتا دیا ہے۔کہ دس گنا طاقت پر مسلمان غالب آ سکتے ہیں۔اب پاکستان کی آبادی کہتے ہیں سات کروڑ ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اگر پاکستانی ایسے مسلمان بن جائیں تو ۷۰ کروڑ کے ملک پر یہ غالب آ سکتے ہیں اور دنیا میں ۷۰ کروڑ کا کوئی ملک نہیں۔بڑے سے بڑا ملک چین ہے اُسکی بھی پچاس کروڑ کی آبادی ہے۔دوسرے نمبر پر ہندوستان ہے اُس کی تہیں کروڑ کی آبادی ہے لیکن قرآن کریم کے حکم کے ماتحت اگر پاکستان کے مسلمان اس قسم کے مسلمان بن جائیں جیسے قرآن کہتا ہے کہ بن جاؤ یعنی نہ وہ لوگوں پر ظلم کریں ، نہ حریت ضمیر میں دخل دیں، نہ وہ غیر مذاہب کو اپنے مذہب پر جبر آلانے کی کوشش کریں اور نہ