سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 900

سیر روحانی — Page 542

۵۴۲ خواب آئی ہے ، چلو ہم عمرہ کر آئیں۔جب آپ حدیبیہ مقام پر پہنچے تو مکہ والوں کو پتہ لگ گیا وہ لشکر لے کر آگئے اور انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ تم کو یہاں آنے کی رکس نے اجازت دی ہے؟ انہوں نے کہا ہم لڑنے کیلئے تو نہیں آئے صرف اس لئے آئے ہیں کہ عمرہ کر لیں یہ مقام تمہارے نزدیک بھی برکت والا ہے اور ہمارے نزدیک بھی۔ہم اس کی زیارت کے لئے آئے ہیں لڑائی کے لئے نہیں آئے۔انہوں نے کہا طواف کا سوال نہیں۔ہماری تمہاری لڑائی ہے اگر تم مکہ آئے اور طواف کر گئے تو تمام عرب میں ہماری ناک کٹ جائے گی کہ تمہارا دشمن آکر تمہارے گھر میں طواف کر گیا ہے۔ہم ساری دُنیائے عرب کو اجازت دے سکتے ہیں مگر تم کو نہیں دے سکتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد بھیجے ، روسائے عرب کی طرف توجہ کی ، اُن کو سمجھایا مگر وہ سارے متفق ہو گئے کہ ہم عمرہ کی اجازت نہیں دے سکتے آخر یہ فیصلہ ہوا کہ صلح نامہ لکھا جائے۔اس معاہدہ میں انہوں نے کہا کہ اب کے تم واپس چلے صلح نامہ حدیبیہ کی بعض شرائط جاؤ تا سارے عرب کو پتہ لگ جائے کہ تم پوچھے بغیر آئے تھے اس لئے ہم نے تم کو طواف نہیں کرنے دیا۔پھر اگلے سال آجانا تو ہم تمہیں تین دن کے لئے طواف کرنے کی اجازت دے دیں گے۔معاہدہ کرتے وقت جو بڑے بڑے سردار ان لڑائیوں کو نا پسند کرتے تھے وہ کہنے لگے کہ پھر آپس میں کچھ صلح کی شرطیں بھی ہو جائیں۔تا کہ لڑائیاں ختم ہو جائیں آپ نے منظور فرما لیا۔چنانچہ شرطیں یہ طے ہوئیں کہ اگلے سال مسلمان آکر طواف کر جائیں اور یہ معاہدہ ہو جائے کہ آئندہ دس سال کے لئے لڑائی بند کر دی جائے اِس عرصہ میں اللہ تعالیٰ کوئی نشان ظاہر کر دے تو وہ جس کی تائید کرے گا اُس کو فائدہ پہنچ جائے گا ور نہ ملک میں امن پیدا ہو جائے گا۔پھر ایک شرط یہ بھی کی گئی کہ عرب قبائل میں سے جو چاہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کر لے اور جو چاہے مکہ والوں سے معاہدہ کرلے۔اردگرد کے جو قبائل تھے اُن کو یہ آفر (OFFER) کیا گیا کہ تم جس سے چاہو معاہدہ کر لو چنانچہ بنو خزاعہ نے کہا ہم تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کریں گے اُن کی مکہ والوں سے لڑائیاں تھیں اور بنو بکر جو ایک بڑا قبیلہ تھا اور مکہ والوں کا دوست تھا اُس نے کہا کہ ہم مکہ والوں سے معاہدہ کریں گے۔غرض قبائل عرب بھی تقسیم ہو گئے۔اُن میں سے بنوخزاعہ مسلمانوں کے حق میں ہو گئے اور بنو بکر مکہ والوں کے حق میں ہو گئے اور فیصلہ یہ ہوا کہ آپس میں لڑنا نہیں سوائے