سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 900

سیر روحانی — Page 31

کہ آدم اور حوا آپس میں دشمن رہیں گے حالانکہ یہ معنے بالبداہت غلط ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس جگہ دونوں سے مراد دونوں گروہ ہیں نہ کہ آدم اور حوا۔اور اللہ تعالیٰ نے اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا کہہ کر یہ حکم دیا ہے کہ اے آدم کے گروہ اور اے شیطان کے گروہ ! تم دونوں اِس جگہ سے چلے جاؤ۔اب تم دونوں گروہ آپس میں ہمیشہ دشمن رہو گے ، پھر اس بات کا ایک اور ثبوت کہ ان دو سے مراد دو گروہ ہیں نہ کہ آدم اور حوا۔یہ بھی ہے کہ اهْبِطَا کے ساتھ جَمِیعًا کا لفظ بھی آتا ہے ، حالانکہ دو کے لئے عربی زبان میں جَمِیعًا کبھی نہیں آ سکتا۔پس چونکہ آدم کے بھی کئی ساتھی تھے اور شیطان کے بھی کئی ساتھی تھے اس لئے دونوں کے لئے اهْبِطَامِنُها جَمِيعًا کے الفاظ استعمال کئے گئے۔اسی طرح جہاں دشمنی کا ذکر ہے وہاں بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ کے الفاظ ہیں اور کم کے لفظ نے بھی جو تین یا تین سے زیادہ کے لئے بولا جاتا ہے بتا دیا ہے کہ جن کو نکلنے کا حکم دیا ہے وہ ایک جماعت تھی نہ کہ دو شخص۔پھر اس آیت سے یہ پتہ بھی لگتا ہے کہ آدم کی نسل اور شیطان کی نسل دونوں نے ایک جگہ اکٹھا رہنا تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ - که اے شیطان کے ساتھیو اور اے آدم کے ساتھیو! تم دونوں نے دنیا میں اکٹھا رہنا ہے پس ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ تم دونوں ایک دوسرے کی دشمنی سے بچتے رہنا اور اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔پھر اس سے بھی بڑھ کر ایک اور بات ان آیات سے نکلتی ہے اور وہ یہ کہ یہ دونوں کوئی الگ الگ جنس نہیں تھے بلکہ ایک ہی جنس میں سے تھے چنانچہ سورۃ بقرہ میں ہی اللہ تعالیٰ شیطان کے ساتھیوں اور آدم کے ساتھیوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّى هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۲۵ کہ اے آدم کے ساتھیو! اوراے ابلیس کے ساتھیو تم سب یہاں سے چلے جاؤ مگر یا درکھو کہ کبھی کبھی تمہارے پاس میرے نبی بھی آیا کریں گے جو لوگ ان انبیاء کو مان لیں گے وہ ہر قسم کے روحانی خطرات سے محفوظ رہیں گے مگر وہ لوگ جو ان کو نہیں مانیں گے وہ میری ناراضگی کے مورد ہونگے۔اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ آدم کی اولاد کبھی شیطان کی ساتھی بن جایا کریگی اور کبھی شیطان کی اولاد آدم کی اولاد بن جایا کریگی کیونکہ اس آیت سے یہ امر مستنبط ہوتا ہے کہ ابلیس اور نسلِ ابلیس کے لئے بھی ایمان لانا ممکن تھا اور جب کہ نسل ابلیس کے لئے بھی ایمان لانا ممکن تھا اور یہ بھی امکان تھا کہ کبھی آدم کی اولا دکسی نبی کا انکار کر دے تو صاف معلوم ہوا کہ یہ دونوں نسلیں آپس میں تبادلہ