سیر روحانی — Page 30
پہلے ہوا ہے اور آدم کا واقعہ بعد میں ہوا ہے حالانکہ اگر وہی خیال صحیح ہوتا جو لوگوں میں پایا جاتا ہے تو خدا تعالیٰ یوں کہتا کہ میں نے پہلے آدم کو پیدا کیا اور فرشتوں کو اُسے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔پھر میں نے تم کو اس سے پیدا کیا۔مگر خدا تعالیٰ یہ نہیں فرما تا بلکہ وہ یہ فرماتا ہے کہ میں نے پہلے انسانوں کو پیدا کیا ، ان کی صورتوں کی تکمیل کی اور پھر ان میں سے آدم کے متعلق ملائکہ کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کریں۔پس یہ آیت اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ پہلے کئی انسان پیدا ہو چکے تھے۔آدم اور ابلیس دونوں نسلِ انسانی میں سے تھے میرا دوسرا دعوئی یہ تھا کہ آدم اور ابلیس در حقیقت نسلِ انسانی میں سے ہی تھے اس بات کا ثبوت بھی قرآن کریم سے ملتا ہے۔(1) اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ میں جہاں اس نے آدم کی پیدائش کا ذکر کیا ہے فرماتا ہے۔فَازَلَّهُمَا الشَّيْطَنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَامِمَّا كَانَا فِيهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلى حِينٍ ٢٣ کہ آدم اور اُس کی بیوی دونوں کی کو شیطان نے ورغلا دیا اور دھوکا دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری ناراضگی ہوئی اور ہم نے کہا کہ اهْبِطُوا تم اے شیطان کے لوگو اور اے آدم کے ساتھیو! سارے کے سارے یہاں سے چلے جاؤ۔جمع کا صیغہ ہے جو خدا تعالیٰ نے استعمال کیا۔اگر اس سے مراد صرف آدم اور حوا ہوتے تو وہ تو دو ہی تھے ان کے لئے جمع کا صیغہ کیوں استعمال کیا جاتا۔انہیں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاتا کہ تم دونوں چلے جاؤ مگر اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا بلکہ فرماتا ہے ساری کی ساری جماعت یہاں سے چلی جائے۔آدم حوا اور ان کے ساتھیوں کو بھی یہ حکم دیتا ہے اور ابلیس اور اس کے ساتھیوں کو بھی دیتا ہے اور سب سے کہتا ہے کہ اس علاقہ سے چلے جاؤ کیونکہ اب تمہاری آپس میں عداوت ہو چکی ہے۔یہ آیت اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ آدم اور ابلیس دونوں نسلِ انسانی میں سے ہی تھے۔ایک شبہ کا ازالہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم میں ایک اور مقام پر اهبِطُوا کی بجائے اھیکا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر وہاں بھی قرآن کریم نے اس مشکل کو آپ ہی حل کر دیا ہے اللہ تعالیٰ سورۃ طہ میں فرماتا ہے۔قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ " کہ ہم نے کہا دونوں یہاں سے چلے جاؤ تم دونوں ایک دوسرے کے دشمن رہو گے۔اب اگر دونوں سے مراد آدم اور حوا لئے جائیں تو اس آیت کا مطلب یہ بنتا ہے ۲۴۔