سیر روحانی — Page 501
۵۰۱ رُعب اور دبدبہ اس قدر عطا فر مایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنکر گھر بیٹھے دشمن کا دل لرز جاتا اور اُس کا کلیجہ منہ کو آنے لگتا تھا۔غرض ہر خیر اور برکت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی اور اس کثرت کے ساتھ دی گئی کہ اس کی مثال نہ موسٹی کی زندگی میں مل سکتی ہے نہ عیسی کی زندگی میں مل سکتی ہے نہ داؤد اور سلیمان کی زندگی میں مل سکتی ہے اور نہ کسی اور نبی کی زندگی میں مل سکتی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی چار اغراض پر تفصیلی طور پر دیکھا جائے تو پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی چار اغراض بتلائی گئی تھیں تلاوت آیات تعلیم کتاب تعلیم حکمت اور تزکیۂ نفوس چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِينِ الله یعنی اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں پر یہ بڑا بھاری احسان کیا کہ اُس نے اُن میں ایک ایسا رسول مبعوث فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے انہیں روشناس کرتا ہے اُن کا تزکیہ نفس کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور یقیناً وہ اس سے پہلے ایک کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ہر کمال میں محمد رسول اللہ کا منفرد ہونا اس آیت میں محمدرسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے چار کام بتلائے گئے ہیں اور درحقیقت ہر نبی انہی چاروں امور کی سرانجام دہی کے لئے آیا کرتا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ آپ نے دنیا کے ہر نبی سے تلاوت آیات بھی زیادہ کی تعلیم کتاب بھی زیادہ دی تعلیم حکمت بھی زیادہ پیش کی اور تزکیہ نفوس بھی زیادہ کیا۔گویا ہر کمال میں آپ کو کوثر عطا کیا گیا اور ہر خوبی میں آپ کو منفرد رکھا گیا۔امور غیبیہ کے متعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی عربی زبان میں آية کے جہاں اور بہت سے معنی ہیں وہاں اس کے ایک معنی اس چیز کے بھی ہوتے ہیں جو کسی دوسری چیز کی طرف راہنمائی کرے چنانچہ قرآن کریم میں نازل شدہ فقرات کو بھی اسی لئے آیات کہا جاتا ہے کہ اس کا ہر فقرہ دوسرے فقرہ کے معانی کے لئے بطور دلیل ہوتا ہے جس کو مد نظر رکھنے کے