سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 900

سیر روحانی — Page 500

معترف ہے، اگر مبلغوں کی ضرورت تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے مبلغ عطا فرمائے جو قرآن ہاتھ میں لے کر ساری دنیا میں نکل گئے اور انہوں نے ہزاروں لوگوں کو اسلام میں داخل کیا ، اگر جاں نثار اور فدا کا رغلاموں کی ضرورت تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے مخلص جاں ثار عطا فرمائے جنہوں نے بھیڑ بکریوں کی طرح خدا تعالے کی راہ میں اپنے سر کٹا دیئے، اگر کسی جگہ عورتوں کی فدائیت کی ضرورت پیش آئی تو عورتیں آگے آگئیں ، اگر کسی جگہ نو جوانوں کا خون کی قوم کو درکار تھا تو نوجوان آگے نکل آئے ، اگر قوم کی ترقی کے لئے عابد و زاہد لوگوں کی ضرورت تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑے بڑے شب بیدار اور عابد وزاہد نفوس عطا فرمائے غرض کونسی ضرورت تھی جو خدا تعالے نے پوری نہ کی۔اخلاص اور فدائیت میں صحابہ کی امتیازی شان پھر اخلاص اور فدائیت کولو تو اس میں بھی جو برکت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو ملی وہ کسی اور نبی کے متبعین کو نہیں ملی۔موسیٰ کے ساتھیوں نے ایک نہایت ہی نازک موقع پر یہ کہہ دیا کہ فَاذْهَبُ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ 9 اے موسیٰ تو اور تیرا رب جا کر لڑتے پھر وہم تو یہیں بیٹھے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ جاں نثار عطا فرمائے جنہوں نے بڑی دلیری سے کہا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روند تا ہوا نہ گزرے۔غرض اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر خیر اور برکت کی کثرت عطا کی۔اُس نے روحانی لحاظ سے ایک طرف سے آپ کو وہ شریعت عطا فرمائی جو قیامت تک منسوخ نہیں ہو سکتی اور دوسری طرف آپ کو وہ بلند مقام بخشا کہ اب قیامت تک کوئی شخص خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں شامل نہ ہوا اور جسمانی لحاظ سے اُس نے آپ کو خدام کی اتنی کثرت بخشی کہ سارا مکہ آپ کی زندگی میں آپ کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گیا۔مال و دولت اور رُعب و دبدبہ اسی طرح مال و دولت کے لحاظ سے اس قدر کثرت بخشی کہ قیصر و کسری کے خزائن مسلمانوں میں تقسیم ہوئے ،