سیر روحانی — Page 483
۴۸۳ نے غربت میں اپنی عمر میں گزار دیں آج ان کا نام آتا ہے تو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمُ وَرَضُوا عَنْه کہے بغیر ایک مسلمان کا دل مطمئن ہی نہیں ہوتا۔حضرت ابو ہریرہ کی فاقہ کشی حضرت ابو ہریرہ کو ہی دیکھ لو وہ اپنے متعلق کہتے ہیں کہ مجھے سات سات وقت کا فاقہ ہو جا تا تھا اور جب میں شدت ضعف سے بیہوش ہو جاتا تھا تو لوگ میرے سر پر جوتے مارتے اور سمجھتے کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے پھر حضرت ابو ہریرہ کسی اعلیٰ خاندان میں سے نہ تھے کوئی نامور لیڈ ریا مشہور ادیب نہ تھے، کوئی فوجی ماہر یا سیاسی نفوذ رکھنے والے انسان نہ تھے مگر آج بھی ہماری کو یہ کیفیت ہے کہ ابو ہریرہ کا نام آتا ہے تو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کہے بغیر دل کو چین ہی نہیں آتا۔حضرت ابوبکر رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کا بلند مقام اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جو حالت تھی وہ خودان کے باپ کی شہادت سے ظاہر ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے باپ کا نام ابو قحافہ تھا جب حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے تو اُس وقت ابو قحافہ مکہ میں تھے کسی شخص نے وہاں جا کر ذکر کیا کہ ابو بکر عرب کا بادشاہ ہو گیا ہے۔ابو قحافہ مجلس میں بیٹھے تھے کہنے لگے کونسا ابو بکر ؟ اُس نے کہا وہی ابو بکر قریشی۔کہنے لگے کونسا قریشی ؟ اُس نے کہا وہی جو تمہارا بیٹا ہے اور کون۔وہ کہنے لگے واہ! ابو قحافہ کے بیٹے کو عرب اپنا بادشاہ مان لیں یہ کیسے ہو سکتا ہے تو بھی عجیب باتیں کرتا ہے۔غرض ابو قحافہ کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے متعلق یہ مان ہی نہیں سکتے تھے کہ سارا عرب انہیں بادشاہ تسلیم کر لے گا مگر اسلام کی خدمت اور دین کے لئے قربانیاں کرنے کی وجہ سے آج حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جو عظمت حاصل ہے وہ دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہوں کو بھی حاصل نہیں آج دنیا کے بادشاہوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں جسے اتنی عظمت حاصل ہو جتنی حضرت ابو بکر کو حاصل ہے بلکہ حضرت ابو بکر تو الگ رہے کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو اتنی عظمت حاصل نہیں جتنی مسلمانوں کے نزدیک ابو بکر کے نوکروں کو حاصل ہے اس لئے کہ اُس نے ہمارے رب کے دروازہ پر سجدہ کیا اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے در کا غلام ہو گیا اب یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص اس عظمت کو ہمارے دلوں سے محو کر سکے اور اُس خطاب کو چھین سکے جو اس نے اپنے دربار میں صحابہ کرام کو دیا۔آج صحابہ کے زمانہ پر تیرہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر آج بھی وہ خطاب جو خدا نے اُن کو دیا تھا قائم ہے اور رہتی دنیا تک قائم رہیگا۔