سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 900

سیر روحانی — Page 482

۴۸۲ عنهم کا زمانہ گزر نے کے باوجود آج بھی صحابہ کا ذکر آئے تو ہم رَضِيَ الله ضُوا عَنْهُ کہے بغیر نہیں رہ سکتے۔اب یہ بھی ایک خطاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا ایسا ہی جیسے خاں صاحب یا خاں بہا دریا سر یا ڈیوک یا ما رکوٹس یا ارل وغیرہ ہیں مگر سوچو تو سہی کتنے خان بہادر یا سر یا ڈیوک یا مار کوٹس یا ارک ہیں جن کا نام دنیا جانتی ہے یا کتنے بادشاہ ہیں جن کا نام دنیا خطاب سمیت لیتی ہے؟ بڑے بڑے بادشاہ دنیا میں گزرے ہیں مگر آج لوگ اُن کا نام نہایت بے پروائی سے لیتے ہیں۔سکندر، دارا اور تیمور کا انجام کند و سیناری سکندر کتنا بڑا بادشاہ تھا یونان سے وہ چلتا ہے اور ہندوستان تک فتح کرتا چلا آتا ہے اور بڑی بڑی زبر دست حکومتوں کو راستہ میں شکست دیتا ہے مگر آج ایک غریب اور معمولی مزدور بھی سکندر کا نام نہایت بے پروائی سے لیتا ہے۔بچے بھی سکندر سکندر کہتے پھرتے ہیں اور کوئی ادب کا لفظ اس کے لئے استعمال نہیں کرتا۔دارا بھی ایک عظیم الشان بادشاہ تھا اور گوا سے سکندر کے مقابلہ میں شکست ہوئی مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ بھی زبر دست سلطنت کا مالک تھا اور چین تک اس کی حکومت پھیلی ہوئی تھی مگر آج لوگ اسے دارا دارا کہتے پھرتے ہیں بادشاہ کا لفظ بھی اُس کے متعلق استعمال نہیں کرتے۔تیمور جو ایک زمانہ میں دنیا کے لئے قیامت بن گیا تھا آج اسے ساری دنیا تیمور لنگ یعنی لنگڑا تیمور کہتی ہے حالانکہ اپنے زمانہ میں اُس کی اتنی ہیبت تھی کہ جب وہ حملہ کرتا تو کشتوں کے پشتے لگا دیتا اور بعض جگہ تو لوگوں کو مار مار کر ان کی لاشوں کو جمع کرتا اور مینار کھڑا کر دیتا۔بعض مؤرخ کہتے ہیں کہ اُس نے کئی لاکھ آدمی قتل کیا ہے مگر اب ایک ذلیل سے ذلیل انسان بھی جب تیمور کا ذکر کرتا ہے تو کہتا ہے لنگڑا تیمور حا لانکہ اُس کے زمانہ میں کسی کو یہ جرات نہیں تھی کہ وہ اسے لنگڑا تیمور کہے وہ شہنشاہ کہلاتا تھا اور بڑے بڑے حکمران اس کے خوف سے کانپتے تھے۔صحابہ کی بے مثال عظمت غرض وہ بادشاہ جن کی اپنے زمانہ میں بڑی ہیبت تھی جن کا نام سنکر ہزاروں میل پر لوگ کانپ اُٹھتے اُن کا نام آج انتہائی لا پروائی کے ساتھ ایک معمولی اور بے حیثیت آدمی بھی لے لیتا ہے اور کئی تو ایسے ہیں جن کا نام بھی آج کوئی نہیں جانتا مگر وہ غریب بکریاں اور اونٹ چرانے والے صحابہ جنہوں