سیر روحانی — Page 462
۴۶۲ بھی ہو سکتے ہیں کہ جس طرح وہ کہتے ہیں کہ جو مسلمان ہیں ان کو خوب مارو، ان پر خوب سختی کرو، انہیں خوب ذلیل کرو اسی طرح جو لوگ تم سے اختلاف عقیدہ رکھتے ہیں تم بھی ان سے یہی سلوک کرنے لگ جاؤ۔خدا تعالیٰ نے سمجھایا کہ مسلمانوں کے دماغ بھی کبھی خراب ہو سکتے ہیں اور ایسا ہو سکتا ہے کہ مسلمان بھی غیر مسلموں پر سختی کرنے لگ جائیں اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ہم نے یہ حکم دیا ہے کہ شرک کو مٹا دے تو ہمارا یہ مطلب نہیں کہ تم مشرکوں پر پابندیاں عائد کر و یا مشرکوں کو قتل کرو یہ اسلام میں منع ہے پس اس جگہ من کے معنے روکنے اور کاٹنے کے ہیں فَلَا تَمُنُنُ پس مت کاٹ۔وہ شرک جس کے متعلق کی ہم نے کہا ہے کہ اسے مٹادے اس کا یہ مطلب نہیں کہ تو مشرکوں کو مارنے لگ جائے اور اس طرح تَسْتَكْثِرُ مسلمانوں کی جمعیت اور ان کی شوکت کو بڑھا دے۔پس اس جگہ آدمی بڑھانے کا ذکر ہے روپیہ بڑھانے کا ذکر نہیں یعنی مشرکوں کو مت کاٹ ، مشرکوں پر قیو دمت لگا اس طرح سے کہ مسلمانوں کی طاقت بڑھے اور مسلمان زیادہ ہو جائیں۔ہم نے اسلام کی ترقی کا ذریعہ تبلیغ رکھی ہے، ہم نے اسلام کی ترقی کا ذریعہ روحانی تعلیمات رکھی ہیں، ہم نے اسلام کی ترقی کا ذریعہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق رکھے ہیں ان ذرائع سے اسلام کو بڑھا ؤ، مشرکوں پر پابندیاں لگا کر یا ان کو مار کر یا ان پر قیدیں لگا لگا کر اسلام بڑھانے کا حکم نہیں دیا۔اب دیکھو یہ معنے کتنے اعلیٰ اور اسلام کی خوبی ثابت کرنے والے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام صبر کی عظمت پھر فرماتا ہے ولو تک فاصبر فَاصْبِرُ یعنی اگر مشکلات آئیں تو ان پر صبر کیجیؤ مگر وَلِرَتِکَ۔صبر دو طرح کا ہوتا ہے ایک ہوتا ہے صبر مجبوری۔، بڑے آدمی کا بیٹا ہوتا ہے وہ کسی کو مارتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ کیا کریں بول نہیں سکتے۔ہم نے کئی دفعہ دیکھا ہے بڑا آدمی ظلم کر رہا ہو تو غریب آدمی کی ماں اُلٹا اپنے بچے کو مارتی ہے۔یا اگر اس نے کسی عورت کے خاوند کو مارا ہو تو وہ الگ بیٹھ کر روتے ہیں سامنے رو بھی نہیں سکتے۔یہ بیچارگی کا صبر ہے مگر فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ ! ہم تیرے جیسے بزرگ شان والے انسان سے یہ امید نہیں کر تے کہ تو بزدلی والا صبر کریگا بلکہ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرُ تُو وہاں صبر کر جہاں تجھے نظر آتا ہو کہ میرا یہاں صبر کرنا خدا تعالیٰ کی خوشنودی کا موجب ہوگا یہ نہیں کہ اس لئے صبر کرو کہ اگر میں نے صبر نہ کیا تو ظالم ظلم میں بڑھ جائے گا یا میں اس کا مقابلہ کس طرح کر سکتا ہوں وہ طاقتور ہے اور میں