سیر روحانی — Page 461
۴۶۱ اور زمرد اور ہیرے اور دریا اور پہاڑ غرض کچھ بھی نہ ہوتا یہ سب کچھ تیری خاطر پیدا کئے گئے ہیں۔وہ شخص جس کی جوتیوں کی خاک ہیں یہ چیزیں بلکہ جس کی جوتیوں کی خاک سے ادنی ہیں اس کے متعلق مولوی یہ کہتے ہیں کہ وہ زیادہ لینے کے لئے لوگوں کو ڈھوئے دیتا پھرتا تھا کہ میں دس روپے کی چیز دیتا ہوں وہ مجھے پندرہ دے دے۔نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ یہ بھی اسی طرح ان کی غلطی ہے جس طرح کہ پہلی غلطیاں تھیں اور یہاں بھی وہی نادانی کام کر رہی ہے کہ ہر بُرے معنے محمد رسول اللہ کی طرف اور ہر اچھے معنے اپنے عیسٹی کی طرف منسوب کئے جائیں۔لغت کے لحاظ سے وَلَا تَمُنُنُ تَسْتَكْثِرُ کے صحیح معنے اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیت ۵۴ کے صحیح معنے کیا ہیں؟ اس غرض کے لئے ہم پھر لغت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ من کبھی صلہ کے ساتھ آتا ہے اور کبھی بغیر صلہ کے۔جب یہ صلہ کے ساتھ آئے تو اس کا صلہ علیٰ ہوتا ہے چنانچہ مَنَّ عَلَيْهِ کے معنے ہوتے ہیں اس پر احسان کیا یا اس پر احسان جتایا ہے اور بغیر صلہ کے من آئے تو اس کے معنے ہوتے ہیں کسی کو روکنا یا کاٹنا ۵۵، اور اِسْتَكْثَر کے معنے ہوتے ہیں زیادہ لینا۔۵۶ اس میں روپیہ کی شرط نہیں جو چیز بھی ہم زیادہ لیں اس کے معنے اِستِكْثَار کے ہو جا ئیں گے۔پہلے دو معنوں کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں اور آپ کی شان کے بالکل خلاف ہیں اور پھر سیاق وسباق کے ساتھ بھی ان کا کوئی جوڑ نہیں۔ذکر ہو رہا ہے۔انذار کا اور کہا جا رہا ہے کپڑے دھو، ریٹھے لا ، صابن خرید ، حمام میں جا اور پھر سُود خوری نہ کر۔ان گندے معنوں کے ساتھ بھی اس کا کوئی جوڑ نہیں بنتا لیکن ہم جو معنے بتاتے ہیں وہ سارے کے سارے ان آیتوں پر چسپاں ہو جاتے ہیں۔مشرکوں کو قتل کرنے یا ان کی آزادی اب ہمارے نقطہ نگاہ سے اس کے یہ معنے بن جائیں گے کہ اے محمد رسول اللہ ! ہم نے تجھے پر پابندیاں عائد کرنے کی ممانعت شرک کے مٹانے کا حکم دیا ہے پہلے حکم آپکا ہے کہ وَالرُّجُزَ فَاهْجُرُ شرک کو مٹا دے پس ہم نے شرک کے مٹانے کا حکم دیا ہے لیکن اس سے ایک غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے ہم اس غلط فہمی کی تشریح کر دیتے ہیں کہ کہیں تم یا تمہارے مُرید اس حکم کے یہ معنے نہ کرلو کہ مشرکوں کو مارو اور ان کی آزادی پر پابندی عائد کرو اور اس طرح اسلام کو ترقی دو۔کیونکہ مٹانے کے یہ معنے