سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 900

سیر روحانی — Page 323

۳۲۳ فرمایا خاموش رہو اس وقت دشمن چاروں طرف پھیلا ہوا ہے۔اگر اسے ہمارے اس اجتماع کی خبر ہو گئی تو ممکن ہے کہ وہ ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے مگر اب ان کے دلوں میں ایمان کی چنگاری سلگ اٹھی تھی خدا کا نور اُن کے دلوں میں پیدا ہو چکا تھا انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! بے شک ہم بے وطن ہیں مگر ہم آپ کی وجہ سے چُپ ہیں ورنہ آپ اجازت دیں تو ہم ابھی مکہ والوں کو اُن کی شرارت کا مزہ چکھا دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہیں نہیں مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اجازت نہیں اس کے بعد انہوں نے یہ معاہدہ کیا کہ اگر کوئی دشمن مدینہ پر حملہ آور ہو گا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان بچانے کے لئے ہم اپنی جان، مال اور عزت سب کچھ قربان کر دیں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر لڑائی ہوئی تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔حضرت عباس کا بھی یہی مشورہ تھا چنانچہ آخر یہی معاہدہ ہوا اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر کے چلے گئے۔جنگ بدر کے موقع پر انصار کا جوش اخلاص جب بدر کے موقع پر مدینہ سے باہر جنگ نہون ہونے لگی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا اے لوگو! مجھے مشورہ دو کیونکہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ہماری قافلہ سے مڈبھیڑ نہیں ہوگی بلکہ مکہ کے لشکر سے ہمارا مقابلہ ہو گا۔اس پر یکے بعد دیگرے مہاجرین کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ بے شک جنگ کیجئے ہم آپ کے ساتھ ہیں مگر ہر دفعہ جب اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے بعد کوئی مہاجر بیٹھ جاتا تو آپ فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔آپ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ مہاجرین تو مشورہ دے ہی رہے ہیں اصل سوال انصار کا ہے اور انصار اس لئے چُپ تھے کہ لڑنے والے مکہ کے لوگ تھے وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے یہ کہا کہ ہم مکہ والوں سے لڑنے کے لئے تیار ہیں تو شاید ہماری یہ بات مہاجرین کو بُری لگے اور وہ یہ سمجھیں کہ یہ لوگ ہمارے بھائی بندوں کا گلا کاٹنے کے لئے آگے بڑھ بڑھ کر باتیں کر رہے ہیں مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا کہ اے لوگو ! مجھے مشورہ دو تو ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! مشورہ تو آپ کو مل رہا ہے ایک کے بعد دوسرا مہاجر اُٹھتا ہے اور وہ کہتا ہے يَا رَسُولَ اللهِ ! لڑیئے مگر آپ بار بار یہی فرما رہے ہیں کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو اس سے میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی مراد غالباًا ہم انصار سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔اس نے کہا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! ہم تو اس لئے چُپ تھے