سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 900

سیر روحانی — Page 304

۳۰۴ متعلق پیشگوئی کی ہے۔ہم کہیں گے داؤد علیہ السلام کو تم کیوں سچا سمجھتے ہوں؟ وہ کہیں گے اس لئے کہ حضرت موسی نے اس کے متعلق پیشگوئی کی تھی۔ہم کہیں گے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تم کیوں بچے سمجھتے ہو؟ وہ کہیں گے اس لئے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے متعلق پیشگوئی - کی تھی۔ہم کہیں گے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تم کیوں سچا سمجھتے ہو؟ وہ کہیں گے اس لئے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اس کے متعلق پیشگوئی کی تھی۔ہم کہیں گے کہ نوح علیہ السلام کو تم کیوں سچا سمجھتے ہو؟ وہ کہیں گے اس لئے کہ آدم علیہ السلام نے اس کے متعلق پیشگوئی کی تھی۔ہم کہیں گے کہ آدم کو تم کیوں سچا سمجھتے ہو؟ آدم کی تو کسی نے پیشگوئی نہیں کی اور جب اس اصول کے مطابق آدم جھوٹا ہو گیا تو نَعُوذُ بِالله نوح بھی جھوٹا ہو گیا ، ابراہیم بھی جھوٹا ہو گیا ، موسیٰ بھی جھوٹا ہو گیا ، داؤ دبھی جھوٹا ہو گیا ، ملا کی بھی جھوٹا ہو گیا اور عیسی بھی جھوٹا ہو گیا۔غرض او پر چلوتب بھی عیسائیوں کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق وہ جھوٹے ثابت ہوتے ہیں اور نیچے اُترو تب بھی عیسائیوں کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق وہ جھوٹے ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک مسیح آخری منجی تھا جس نے اپنے بعد کسی اور کے ظہور کی خبر نہیں دی۔غرض غلطی سے انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی مجدد دین اور مامور کی خبر نہیں دی۔لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی بات درست ہے سوائے اس کے کہ جس سے سلسلہ نبوت کا آغاز ہو اس کی کوئی خبر دے ہی نہیں سکتا اور جو قیامت کے قریب آئے گا وہ کسی بعد میں آنے والے کی خبر نہیں دے سکتا۔لیکن بہر حال جب بھی کوئی مامور آئے گا یہ یقینی بات ہے کہ وہ اپنے زمانہ کی خرابی کو دور کرے گا اس کے بعد اگر کسی اور زمانہ میں نئی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں تو پھر دنیا کو ایک نئے مامور کی ضرورت محسوس ہوگی اور یہ سلسلہ آدم سے لے کر اس وقت تک جاری رہا۔تاریکی کے ہر دور میں اسلام کے احیاء کی خبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ خبر دی کہ جب بھی اسلام پر تاریکی کا کوئی دور آئے گا اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا آدمی کھڑا کیا جائے گا جو دوبارہ اسلام کو اپنی بنیادوں پر قائم کرے گا اور یہ ثبوت ہو گا اس بات کا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صال نہیں کیونکہ کوئی ضالّ ہزار بارہ سو سال کے بعد اپنے لئے ہمدرد پیدا نہیں کر سکتا اور کوئی شخص یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ کہہ سکے کہ جب بھی میرے مشن کو نقصان پہنچے گا خواہ کسی زمانہ میں پہنچے اور خواہ دنیا کے کسی علاقہ میں پہنچے اس ا