سیر روحانی — Page 303
٣٠٣ برکت اور زندگی کا موجب ہوگا اور اس کی چوٹ دشمنوں کے لئے مہلک ہو گی۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ نجم ثاقب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک زندہ نشان ہوگا گویا یہ الزام جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر لگایا جاتا ہے کہ آپ نَعُوذُ بِاللَّهِ ضَالَّ ہیں ، غَاوِی ہیں نَاطِقُ عَنِ الْهَوَى ہیں اس کو دُور کرنے کے لئے ایک ستارہ اُترے گا اور اس کا اُتر نا ثبوت ہوگا اس بات کا کہ آپ ضالّ نہیں غَاوِی نہیں ، نَاطِقُ عَنِ الْهَوای نہیں۔صداقت معلوم کرنے کا ایک اہم اصول یہ ثبوت کیونکر ہوگا ، اس کے لئے ایک موٹی بات جو ہر شخص سمجھ سکتا ہے یہ ہے کہ کوئی جھوٹا آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ جو تعلیم میں پیش کر رہا ہوں اس میں جب کبھی رخنہ واقع ہو گا اُس وقت کوئی اور آدمی پیدا ہو جائے گا جو میرے کام کو سنبھال لے گا۔یہ اتنی نمایاں بات ہے کہ عیسائی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی سختی سے اعتراضات کرنے کے عادی ہیں وہ بھی اس بات پر قائم ہیں کہ کسی نبی کی صداقت کی علامت ہی یہ ہوتی ہے کہ اس کی کسی اور نبی نے خبر دی ہو اور اس نے اپنے بعد کسی اور نبی کے ظہور کی پیشگوئی کی ہو۔عیسائیوں کی دو غلطیاں اب جہاں تک اس اصول کا تعلق ہے ان کی یہ بات تو سچی ہے مگر وہ اس بات کو پیش کرتے وقت دو غلطیاں کرتے ہیں۔اول تو یہ کہ وہ سمجھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی آسمانی وجود کی خبر نہیں دی اور اس طرح یہ بات ان کی صداقت کو رڈ کر دیتی ہے حالانکہ قرآن کریم نے متواتر اس مضمون کو بیان کیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ثبوت ہی یہ ہے کہ جب بھی ان کے دین پر حملہ ہو گا آسمان سے ایک ستارہ گرے گا جو حملہ آور کو مٹا کر یہ ثابت کر دیگا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضَالَ، غَاوِی اور نَاطِقُ عَنِ الْهَوَى نہیں۔دوسرے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پہلی کتب میں کوئی پیشگوئی نہیں پائی جاتی وہ نادان یہ نہیں سمجھتے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تو مسیح علیہ السلام سے دس گنا پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں لیکن میں کہتا ہوں اگر انہی کی بات مان لی جائے کہ وہی شخص سچا ہوتا ہے جس کے ظہور کی پہلے کسی نے خبر دی ہو تو ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ حضرت عیسی علیہ السلام کو تم کیوں سچا سمجھتے ہو؟ وہ کہیں گے اس لئے کہ ملا کی نبی نے اس کے متعلق پیشگوئی کی۔ہم کہیں گے ملا کی کو تم کیوں سچا سمجھتے ہو؟ وہ کہیں گے اس لئے کہ مثلاً حضرت داؤد علیہ السلام نے اس کے