سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 900

سیر روحانی — Page 2

بمبئی بمبئی سے حیدر آباد، حیدرآباد سے آگرہ ، آگرہ سے دہلی اور دہلی سے قادیان آ گیا۔حیدر آباد کا تاریخی گولکنڈہ کا قلعہ حیدرآباد میں میں نے بعض نہایت اہم تاریخی یادگاریں دیکھیں جن میں سے ایک گولکنڈہ کا قلعہ بھی ہے۔یہ قلعہ ایک پہاڑ کی نہایت اونچی چوٹی پر بنا ہوا ہے اور اس کے گر دعالمگیر کی لشکر کشی کے آثار اور اہم قابل دید اشیاء ہیں۔یہاں کسی زمانہ میں قطب شاہی حکومت ہو ا کرتی تھی اور اس کا دارالخلافہ گولکنڈہ تھا۔یہ قلعہ حیدر آباد سے میل ڈیڑھ میل کے فاصلہ پر واقع ہے ایک نہایت اونچی چوٹی پر بڑا وسیع قلعہ بنا ہوا ہے۔یہ قلعہ اتنی بلند چوٹی پر واقع ہے کہ جب ہم اس کو دیکھنے کے لئے آگے بڑھتے چلے گئے تو حید ر آباد کے وہ دوست جو ہمیں قلعہ دکھانے کے لئے اپنے ہمراہ لائے تھے اور جو گورنمنٹ کی طرف سے ایسے محکموں کے افسر اور ہمارے ایک احمدی بھائی کے عزیز ہیں انہوں نے کہا کہ اب آپ نے اسے کافی دیکھ لیا ہے آگے نہ جائے اگر آپ گئے تو آپ کو تکلیف ہوگی۔چنانچہ خود انہوں نے شریفے لئے اور وہیں کھانے بیٹھ گئے مگر ہم اس قلعہ کی کی چوٹی پر پہنچ گئے ، جب میں واپس آیا تو میں نے دریافت کیا کہ مستورات کہاں ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ وہ بھی اوپر گئی ہیں۔خیر تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس آ گئیں، میں نے اُن سے کہا کہ تم کیوں گئی تھیں؟ وہ کہنے لگیں انہوں نے ہمیں روکا تو تھا اور کہا تھا کہ اوپر مت جاؤ اور حیدر آبادی زبان میں کوئی ایسا لفظ بھی استعمال کیا تھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ اوپر گئے تو بڑی تکلیف ہوگی مگر ہمیں تو کوئی تکلیف نہیں ہوئی شاید حیدر آبادی دوستوں کو تکلیف ہوتی ہو۔تو خیر ہم وہاں سے پھر پھرا کر واپس آ گئے۔یہ قلعہ نہایت اونچی جگہ پر ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نہایت شاندار اور اسلامی شان وشوکت کا ایک پُر شوکت نشان ہے۔اس قلعہ کی چوٹی پر میں نے ایک عجیب بات دیکھی اور وہ یہ کہ وہاں ہزاروں چھوٹی چھوٹی مسجد میں بنی ہوئی ہیں ان میں سے ایک ایک مسجد اس سٹیج کے چوتھے یا پانچویں حصہ کے برابر تھی ، پہلے تو میں سمجھا کہ یہ مقبرے ہیں مگر جب میں نے کسی سے پوچھا تو اُس نے بتایا کہ یہ سب مسجدیں ہیں اور اُس نے کہا کہ جب عالمگیر نے اس جگہ حملہ کیا ہے تو اسے ریاست کو فتح کرنے کے لئے کئی سال لگ گئے اور مسلسل کئی سال تک لشکر کو یہاں قیام کرنا پڑا اس وجہ سے اُس نے نمازیوں کے لئے تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر ہزاروں مسجدیں بنا دیں۔مجھے جب یہ معلوم ہوا تو میرا دل بہت ہی متاثر ہوا اور میں نے سوچا کہ اُس وقت کے مسلمان کس قدر با جماعت نماز ادا کرنے کے پابند تھے کہ وہ ایک ریاست پر حملہ کرنے کے لئے کی پر