سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 900

سیر روحانی — Page 1

اَعُوذُ باللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ (۱) تقریر فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۳۸ء بر موقع جلسه سالانه قادیان) میں نے پا لیا۔میں نے پالیا تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا : - وو ایک اہم تاریخی سفر ” میرا آج کا مضمون میرے اُس سفر سے تعلق رکھتا ہے جو اس سال اکتوبر کے مہینہ میں مجھے پیش آیا۔میں پہلے کام کے لئے قادیان سے سندھ کی طرف گیا اور وہاں کچھ دن ٹھہر کر سمندر کی ہوا کھانے کے لئے کراچی چلا گیا کیونکہ میرے گلے میں مزمن خراش کی تکلیف ہے جس کی وجہ سے مجھے سالہا سال تک کا سٹک لگوانا پڑتا رہا ہے۔کچھ عرصہ ہوا مجھے ڈاکٹروں نے کہا کہ اب آپ کا سٹک لگانا چھوڑ دیں ورنہ گلے کا گوشت پا لکل جل جائے گا۔چنانچہ میں نے اُس وقت سے کاسٹک لگوا نا تو ترک کر دیا ہے مگر اور علاج ہمیشہ جاری رکھنے پڑتے ہیں ورنہ گلے اور سر میں درد ہو جاتی ہے۔چونکہ ڈاکٹروں کی رائے میں اس مرض کیلئے سمندر کا سفر خاص طور پر مفید ہے اس لئے گزشتہ دو سال میں میں نے کراچی سے بمبئی کا سفر جہاز میں کیا۔پہلے سفر میں اوّل تو تکلیف بڑھ گئی مگر بعد میں نمایاں فائدہ ہوا اور روزانہ دوائیں لگانے کی جو ضرورت محسوس ہوتی تھی اُس میں بہت کمی آ گئی اس لئے اس سال میں نے پھر موقع نکالا۔اس سفر میں مجھے یہ بھی خیال آیا کہ حیدر آباد دکن کے دوست مجھے ہمیشہ کہتے رہتے ہیں کہ میں کبھی وہاں بھی آؤں سو اس دفعہ حیدر آباد کے دوستوں کی اگر یہ خواہش پوری ہو سکے تو میں اسے بھی پورا کر دوں۔چنانچہ میں سندھ سے کراچی گیا ، کراچی سے