سیر روحانی — Page 123
۱۲۳۔وہ کہتی ہے کہ اب یہ انعامات اعلیٰ خاندانوں میں تقسیم کئے جائیں ، اس پر پھر ڈپٹی کمشنر صاحب کی جب اعلیٰ خاندانوں کی تلاش میں نکلتے ہیں تو وہی لوگ جو پہلی دفعہ انہیں غریب دکھائی دیئے تھے اب انہیں امیر نظر آنے لگ جاتے ہیں اور انہی میں پھر انعامات تقسیم کر دیئے جاتے ہیں۔سرکار یہ دیکھ کر ہمیں تو کچھ پتہ نہیں لگتا کہ ہم بڑے ہیں کہ چھوٹے ہیں۔پس آجکل اموال کی تقسیم کا طریق یہ ہے کہ بڑے بڑے امراء اور متمول لوگوں کو چُن کر ان میں اموال تقسیم کر دیئے جاتے ہیں، مگر اسلام یہ نہیں کہتا بلکہ وہ کہتا ہے کہ تم غرباء میں اموال تقسیم کرو۔گی لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْاَغْنِيَاءِ مِنْكُمُ تا کہ مالداروں کے ہاتھوں میں ہی کی روپیہ جمع نہ رہے بلکہ غرباء کے ہاتھوں میں بھی آتا رہے۔اسی لئے اسلام نے کہیں وراثت کا مسئلہ رکھ کر ، کہیں زکوۃ کی تعلیم دے کر اور کہیں سُود سے روک کر امراء کی دولت کو توڑ کر رکھ دیا تو ہے اور اس طرح امراء اور غرباء میں مساوات قائم کرنے کا راستہ کھول دیا ہے۔قیام مساوات کے لئے دنیا کے تمام پھر ایک مساوات یہ ہوتی ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان انصاف قائم کیا جائے ، اسلام کی مذاہب کے متعلق ایک پر حکمت اصول اس مساوات کا بھی حکم دیتا ہے، چنانچہ فرماتا ہے۔وَلَوْ لَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسِ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَواتٌ وَّ مَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيراً ل کہ اگر دنیا میں ہم مسلمانوں کو کھڑا نہ کرتے اور اس طرح اسلام کے ذریعہ تمام اقوام کے حقوق کی حفاظت نہ کی جاتی تو یہودیوں کی عبادت گاہیں ، عیسائیوں کے گرجے ، ہندوؤں کے مندر اور مسلمانوں کی مسجد میں امن کا ذریعہ نہ ہوتیں بلکہ فتنہ و فساد اور لڑائی جھگڑوں کی آماجگاہ کی ہوتیں۔یہ امر ظا ہر ہے کہ مسلمانوں کا مذہب ایسا ہے جس نے اپنی مساجد میں ہر قوم کو عبادت کا حق دیا ہے اور وہ یہی چاہتا ہے کہ ہر قوم کو عبادت کا مساوی حق حاصل ہو۔چنانچہ رسول کریمی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس آزادی سے عیسائیوں کو اپنی مسجد میں عبادت کرنے کی اجازت دی کی اس کی مثال کوئی اور قوم پیش نہیں کر سکتی۔پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بیان فرمایا ہے کہ اگر ہم مسلمانوں کو اس کام کے لئے کھڑا نہ کرتے اور مسلمان اپنا خون بہا کر اس حق کو قائم نہ کرتے تو دنیا میں ہمیشہ فتنہ وفسا در ہتا اور کبھی بھی صحیح معنوں میں امن قائم نہ ہوسکتا۔