سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 900

سیر روحانی — Page 81

ΔΙ ٹھیک کرنے کے لئے اُٹھایا تو ان میں سے مجھے ایک کتاب مل گئی جس کے لائبریری میں ہونے کا مجھے علم نہیں تھا، میں نے اُسے کھولا تو اس میں اکثر وہ حوالے موجود تھے جن کی مجھے اُس وقت ضرورت تھی۔اسی طرح میں بعض اور کتابوں کی تلاش کر رہا تھا کہ اتفاقاً ایک کتاب نکل آئی جس کا نام کی ہے تَقْوِيْمُنَا الشَّمُسِی‘ اس میں مصنف نے بحث کرتے ہوئے تاریخی طور پر اس بات کو ثابت کیا ہے کہ مسلمانوں میں دیر سے یہ خیال چلا آ رہا ہے کہ ہجری قمری کی طرح ہجری شمسی بھی ہونی چاہئے وہ کہتا ہے کہ خلفاء عباسیہ نے بھی ہجری شمسی تقویم بنانے کی کوشش کی مگر اس میں فلاں فلاں روک پیدا ہو گئی اسی طرح وہ لکھتا ہے کہ بعد میں دولت عثمانیہ نے بھی ہجری شمسی بنائی مگر رائج نہ ہوسکی ، غرض اس نے تاریخی طور پر اس کتاب میں یہ بحث کی ہے کہ مسلمانوں میں یہ خیال کب پیدا ہوا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے کیا کیا کوششیں ہوئیں اور کیا کیا نقائص رتے رہے۔بہر حال یہ خیال مسلمانوں میں دیر سے پایا جاتا ہے بلکہ اس حد تک یہ خیال مضبوطی سے گڑا ہو ا معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب کا مصنف کتاب کا نام محض تقویم شمسی نہیں رکھتا بلکہ تَقْوِيْمُنَا الشَّمْسِی “ رکھتا ہے یعنی ہماری اپنی شمسی ہجری تقویم۔میرا رادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آئندہ عیسوی شمسی سن کی بجائے ہجری شمسی سن جاری کیا جائے اور عیسوی سن کے استعمال کو ترک کر دیا جائے میرا ارادہ ہے کہ ایک دو مہینہ تک اس بارہ میں پوری تحقیق کر کے ہجری شمسی سن جاری کر دیا جائے اور آئندہ کے لئے عیسوی سن کا استعمال چھوڑ دیا جائے ، خواہ مخواہ عیسائیت کا ایک طوق ہماری گردنوں میں کیوں پڑا رہے ی تحقیق میری مقررہ کردہ ایک کمیٹی نے مکمل کر کے تقویم شمسی ہجری تیار کر دی ہے اور دو سال سے اس کا کیلنڈ رشائع ہورہا ہے ) نظام شمسی کا تمدنی ترقی سے تعلق (۱) قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ نظام مسی ایک خاص قانون کے ماتحت ہے اور اس کا قانون ،، انسانی کاموں کے لئے بطور ایک نمونہ کے مقرر کیا گیا ہے اور اس سے انسان کی تمدنی ترقی کے لئے ایک ہدایت اور رہنمائی حاصل ہوتی ہے فرماتا ہے۔اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانِ والنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسجُدَانِ وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِيزَانَ اَلَّا تَطْغَوْا فِى الْمِيزَانِ۔وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ۔٤٣