سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 900

سیر روحانی — Page 80

۸۰ ساتھ ہجری شمسی بھی بناتے اور ہجری قمری تاریخوں کے بالمقابل ہجری شمسی تاریخیں بھی ہوتیں تو قطعاً کوئی جھگڑا نہ ہوتا۔اب اگر کوئی شخص یہ معلوم کرنا چاہے کہ ۶۲۲ ہجری کب تھا اور اُس وقت شمسی کے لحاظ سے کونسا سال تھا تو وہ فوراً معلوم نہیں کر سکتا اور محض ۶۲۲ ہجری کہنے سے اس کی تسلی نہیں ہوتی کیونکہ سال کے لحاظ سے انسانی دماغ سورج ہی سے تسلی پاتا ہے ، اسی وجہ سے لوگ ہجری قمری سالوں کے عیسوی سن معلوم کرتے ہیں اور اس طرح خواہ مخواہ مسلمان بھی عیسوی سن کو اپنے اندر رائج کئے ہوئے ہیں۔میرے نزدیک ضروری تھا کہ جس طرح ہجری قمری بنائی گئی تھی اسی طرح ہجری شمسی بھی بنائی جاتی اور ان دونوں سے فائدہ اُٹھایا جاتا ، مگر مجھے یہ بات جنتر منتر کو دیکھ کر سوجھی اور میں نے اسی وقت سے تہیہ کر لیا کہ اس بارہ میں کامل تحقیق کر کے عیسوی شمسی سن کی بجائے ہجری شمسی سن جاری کر دیا جائے گا۔جب میں واپس آیا تو اتفاق کی بات ہے کہ مجھے اس بارہ میں اپنی لائبریری سے ایک کتاب بھی مل گئی۔میرے ساتھ خدا تعالیٰ کی یہ عجیب سنت ہے کہ مجھے جب بھی کسی چیز کی شدید ضرورت ہو وہ آپ ہی آپ میرے سامنے آ جاتی ہے بعض دفعہ مجھے قرآن کریم کی آیتوں کے حوالوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اُس وقت کوئی حافظ پاس ہوتا نہیں تو میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ایسے وقت میں بسا اوقات جب قرآن کھولتا ہوں تو وہی آیت سامنے آ جاتی ہے جس کی مجھے ضرورت ہوتی ہے۔گزشتہ سال میں نے جلسہ سالانہ پر جو تقریر کی ، اُس کے نوٹ لکھنے کی مجھے فرصت نہیں ملتی تھی۔ایک دن میں نے اس کا چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے ذکر کیا تو وہ ہنس کر کہنے لگے کہ میں نے تو دیکھا ہے جب بھی آپ کو فرصت نہ ملے اُس وقت خدا تعالیٰ کی خاص تائید ہوتی ہے چنانچہ واقع میں ایسا ہی ہو ا جب میں نوٹ لکھنے کے لئے بیٹھا جس کے لئے بہت سے حوالوں کی ضرورت تھی تو وہ حیرت انگیز طور پر جلد جلد نکلتے گئے حتی کہ ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ بعض حوالجات کی مجھے ضرورت پیش آئی مگر میرا ذہن اُس طرف نہ جاتا تھا کہ وہ حوالہ جات کی کس کتاب میں سے ملیں گے۔ارادہ تھا کہ بعض اور دوستوں کو بلا کر اُن کے سپر د حوالہ جات نکالنے کا کام کر دوں کہ اتفاقاً کسی اور کتاب کی تلاش کے لئے میں نے کتابوں کی الماری جوی کھولی تو میں نے دیکھا کہ اس میں چند کتا ہیں بے ترتیب طور پر گری ہوئی ہیں میں نے انہیں