سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 98 of 418

سیلابِ رحمت — Page 98

29-8-93 لنڈن عزیزه مکرمه امتہ الباری ناصر عزیزہ حوری غفر لھا کے وصال پر آپ کا سسکتا بلکتا ہوا اظہار در دموصول ہوا جو اس مضمون پر حرف آخر ہے۔اس اظہار درد میں کہے ہوئے غموں کے پیچھے ان کے غم بھی قطار در قطار کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔اس میں وہ خواہیں بھی ہیں جو نقطہ تعبیر تک پہنچنے سے پہلے ہی ٹوٹ کر بکھر گئیں اور کچھ تعبیر کی حسرتیں بھی ہیں جیسے کھیل ختم ہو جانے سے پہلے بساط اُٹھا دی جائے تو کیفیتیں بے کیفیوں اور بے چین جھنجھناہٹوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں کچھ ویسا ہی منظر حروف کی چلمن میں سے دکھائی دے رہا ہے۔دل ناصبور کی رگ رگ پھڑکتی ہوئی وہ چیچنیں جو دل کے پردے پھاڑ کر باہر نہ آسکیں کیسے یہ اعجاز دکھا گئیں کہ لگتا ہے جیسے فضاؤں کے سینے چیر دیئے ہوں صبر ورضا کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی بے بس اور بے اختیار یہ چیچنیں جو ساتھ والے کمرے میں بھی سنائی نہ دیں کیسے سات سمندر پار سنائی دینے لگیں۔حبس دوام پر پیچ و تاب کھاتی ہوئی پھرتی ، تڑپتی ہر پکتی ہوئی دل کی آگ سے کیسے آپ نے اپنے عزم تسلیم ورضا کو بچالیا کہ آنچ تک نہ آنے دی۔کیسے آپ کی آنکھوں کے سامنے ہر شعلہ فغاں سسکیوں میں ڈھل ڈھل کر خون دل میں سنسنا سنسنا کر بجھتا رہا۔پاک للہی محبت ہو تو ایسی ہو۔لیکن ایک آپ ہی تو نہیں جو حور شمائل 98