سیلابِ رحمت — Page 97
سر پٹکتی ہوئی دل کی آگ سے کیسے آپ نے اپنے عزم تسلیم ورضا کو بچا لیا کہ آنچ تک نہ آنے دی۔کیسے آپکی آنکھوں کے سامنے ہر شعلہ فغان سیکیوں میں ڈھیلی ڈھل کر خون دل میں کنگنا کتنا بجھتا رہا پاک بہتی رہیں محبت ہو تو ایسی ہو۔لیکن ایک آپ ہی تو نہیں جو خور شمائل خوری کی رفعتہ دشکن جدائی سے ایسا نٹ کی ہیں۔شہر کراچی میں آپ جیسی ہزاروں ہونگی لیکن نہ انہیں شعر کہنے کا ملکہ نصیب نہ نظر میں اظہار درد کا سلیقہ - وہ تو فی الخصام بھی غیر مُبير ہیں۔اُن کو بھی تو آپ ہی نے زبان دینی ہے۔اُن کی داستان غم بھی تو آپ ہی کو رقم کرتی ہے۔جب دست قدرت گزرتے ہوے وقت کی مرہم لگا کر آپکے جلائے کر آپکے جلائے ہوئے صبر کو ذرا احراز دے اور یہ متلاطم پانی ذرا ٹھہر جائے تو پوری کی پاکیزہ یاد کو انیا دگر از خراج تحسین پیش کریں کہ ہر پڑھنے والے کا دل پگھلی پکھل کر آستانہ الوہیت کی جانب دعائیں علماء چلے نہیں جا ہیں۔اللہ سب پس ماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے اور صبر جمیل کا لامتناہی اجر بھی۔ایرانی تاکی تی ہیں اوررات بھر احساس کے رکھتے ہوئے تار چھیڑتی شیشے میں دھونی زما کر بیٹھا رہتے ہیں۔اور کفن دھیان کی جو گئیں ہی نہیں بلکہ بحقن خطوں کی afr بن بن کر کئے گئے۔جانے والی کا خیال تو بہت دیر اُن کو ستاتا رہے گا جواس کے ساتھ رہیں مجھے تو پیچھے رہنے والوں کا غم لگ گیا بچوں کا غم جن کی بعض پیاری ہے۔داؤد ام آن معصوم؟ ہاتوں کا ذکر میری زبان اٹھتا تھا۔مرزا عبد الرحیم۔دل میں اُن کہا ہے جیسے سنی بھی اجنبیت ہیں۔N نتی تھیں تو خوری کا دل کھلکھلا بیک صاحب کا غم تو الیسا اپنے گھر میں آ بیٹھا ہو۔ایک ادی آپ نے ٹھیک نہی یاد دلایا ہے کہ یہ فقیہوں کے سے غم میرے محسن ہیں جو دل کو ایک شرف عطار کر جاتے ہیں۔لیکن بعض عم یہ شرف 97