سیلابِ رحمت — Page 90
رحمت ہم نے حضرت خلیفہ المسیح الرابع " کا خطبہ فرمودہ ۲۳مارچ ۱۹۹۰ خطبہ القا' کے نام سے چھاپ کر افادہ عام کے لئے پیش کیا۔حوا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ۔ہماری بتیسویں قابل فخر اور قابل تشکر پیش کش ہے۔کیونکہ اس کی اشاعت کا ارشاد خود خلیفہ امسیح الرابع کی طرف سے موصول ہوا۔اپنے خطا بات آپ نے ارسال فرمائے ہدایات بھی دیں۔مزیدار بات یہ ہوئی کہ مکرم پرائیویٹ سیکر یٹری صاحب نے فون پر بتایا کہ حضور کی خواہش ہے کہ اس کے شروع میں اس مفہوم کا شعر درج کیا جائے کہ حضرت حوا پر جنت سے نکالنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔اب ان کی بیٹیوں نے دوبارہ جنت حاصل کر کے اس الزام کو دھو دیا ہے۔خاکسار نے اس مفہوم کا شعر بنا کر بھیجا جو حضور انور نے پسند فرمایا اور کتاب کے پہلے صفحے پر شائع کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی شعر درج ہے: آج حوا کی بریت کے ہوئے ہیں ساماں بیٹیاں جنتِ گم گشتہ کو لے آئی ہیں اس کتاب کی اشاعت میں خطابات کے خلاصے بنانے میں مکرم طارق محمود بدر صاحب نے تعاون کیا۔اس کے کئی ایڈیشن آئے۔امریکہ لجنہ نے انگریزی میں ترجمہ کیا اور لجنہ کے نصاب میں شامل کیا۔الحمد للہ۔'میرے بچپن کے دن کے نام سے مکرمہ صفیہ سیال صاحبہ نے حضرت مولوی شیر علی صاحب کے حالات قلمبند کئے ہیں۔بہت دلچسپ کتاب ہے۔90