سیلابِ رحمت — Page 56
رحمت استطاعت سے باہر تھا۔سوچا کسی اچھی لکھائی والی خاتون سے لکھا لیتے ہیں۔محترمہ طلعت منصور صاحبہ کی لکھائی سب کو پسند آئی ہماری درخواست پر طلعت نے کو نیل اور غنچہ ہمیں ہاتھ سے بڑی صفائی سے لکھ دی اس کی فوٹوسٹیٹ کا پیاں کروائیں تا کہ سب کو تقسیم کر سکیں۔اب یہ مسئلہ آیا کہ ہمارے پاس کاغذوں کو Staple کرنے کے لئے Stapler نہیں تھا۔گیسٹ ہاؤس میں Stapler تھا مگر اُسے گھر لانے کی اجازت نہ تھی۔کاغذات لے کر گیسٹ ہاؤس جاتے اور کتابوں کی صورت میں Staple کر کے لے آتے ( بعد میں امیر صاحب نے Stapler گھر لانے کی اجازت دے دی تو ہم بہت خوش ہوئے ) بشری کی مقدس ورثہ کے لئے ہمیں دو ہزار روپے ملے تھے۔جہاں تک مجھے یاد ہے یہی وہ سرمایہ تھا جو اس شعبہ کو لجنہ کراچی سے ملا اس کے بعد کتب کی فروخت سے اگلی کتب کا خرچ مل جاتا اور عطیات بھی ملتے رہے۔کتب کی تیاری تک بشری اور خاکسار ساتھ ساتھ کام کرتے مگر طباعت کے مرحلے میں بشری اور داؤد صاحب دونوں میاں بیوی دن رات کام کرتے۔دونوں نے Book Marks ڈیزائن کر کے چھپوائے صد سالہ جشنِ تشکر کے لئے Greeting Cards وقت پر چھپوا کر تقسیم کروائے۔بشری کا گھر کسی چھاپے خانے کا منظر پیش کرتا۔کوشش ہوتی کہ کم سے کم خرچ میں کام ہو اس کے لئے محنت زیادہ کرنی پڑتی تھی۔ہماری کتب کا لجنہ کی گیلری میں ایک میز پر سٹال لگتا۔اس سٹال کے ذکر سے مکرمہ عقیلہ صادق صاحبہ اور مکرمہ مسز انور شریف وڑائچ صاحبہ یاد آتی ہیں۔مسجد میں بک سٹور کے ناظم مکرم شاد صاحب ڈیڑھ اینٹ کے تھڑے پر کتابیں سجاتے تو ہم اوپر سے دیکھ کر خوش ہوتے۔آہستہ آہستہ نھی ننھی کتابیں مقبول ہونے لگیں۔مسز برکت ناصر صاحبہ اجتماعات پر 56