سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 48 of 418

سیلابِ رحمت — Page 48

ب رحمت توجہ حضرت خلیفۃ اسبع الثالث کے بچے احمدی کی ماں۔زندہ باد کے نعرو سے ہوئی جس نے یہ پُر جوش ولولہ پیدا کیا کہ احمدی خواتین کی تربیت خاص انداز سے ہونی چاہیے۔جس کے لئے علیم دین بڑھانا بہت ضروری ہے۔پھر حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی فروری 1982 ء ، اگست 1983ء اور فروری 1984ء میں کراچی تشریف آوری اور گیسٹ ہاؤس کے حسین سبزہ زار پر احمدی و غیر احمدی خواتین سے طویل مجالس عرفان نے علم و آگہی کی نئی روح پھونک کر خدمت دین کا جذ بہ بیدار ย کیا۔محترمہ حور جہاں بشری داؤ د صاحبہ (غفرلھا) نے جامعہ احمدیہ کی طرز پر خواتین کے لئے داعیان الی اللہ کلاسز شروع کیں جس کا افتتاح یکم مارچ 1984ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے فرمایا مگر یہ کلاسز زیادہ عرصہ نہ چل سکیں۔اپریل میں حالات نے ایسا درد ناک پلٹا کھایا کہ بھی سجائی بساط الٹ گئی۔ایسی پابندیاں لگ گئیں کہ کام جاری رکھنا مشکل ہو گیا۔حضرت خلیفة امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کو ہجرت کرنی پڑی۔حالات بہت کٹھن تھے مگر زندہ جماعت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھی۔طبع پر بند باندھے گئے تو اور رواں ہوگئی۔بشری داؤد نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طرز پر کورسز تیار کرنے کا منصوبہ بنالیا تا کہ اگر حالات خدانخواستہ اس حد تک نامساعد ہو جائیں کہ مساجد اور نماز سینٹر ز تک پہنچنا مشکل ہو جائے تو احمدی خواتین اور بچوں کی تربیت کے لئے بذریعہ ڈاک اُنہیں کورسز گھروں میں پہنچائے جائیں۔بشری نے اس مقصد کے لئے مجاہد ماؤں مجاہد عورتوں اور مجاہد بچوں کے لئے کورسز ترتیب دیئے۔حضرت صاحب نے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا تھا: ہم حالت جنگ میں ہیں۔“ بشری اور خاکسار یہ جملہ کئی دفعہ دہراتے۔یہ ہمارے لئے مہمیز بن گیا۔وہ نصاب کی 48