سیلابِ رحمت — Page 45
سیلاب رحمت ہاں ! ہو گیا وہ آپ کے میاں کی ٹرانسفر کا کام۔۔۔66 میں ہکا بکا رہ گئی۔چند دن پہلے میں نے دعا کا خط لکھا تھا۔اللہ تعالیٰ کی شان کہ نام بتاتے ہی حضور کو عاجزہ کا خط یاد آ گیا۔خط کا مضمون بھی یاد تھا۔حضور نے مجھے پہچان لیا تھا یہ بہت خوشی کی بات تھی۔یہ پہلا تعارف تھا۔اس کے بعد اگست 1983ء اور فروری 1984ء میں بھی حضور گراچی تشریف لائے۔ان پر بہارموسموں کی روداد الگ عنوان سے تحریر کی ہے۔کراچی لجنہ 1981ء سے 1986 ء تک براہ راست حضور انور کی نگرانی میں پانچ رکنی کمیٹی کے تحت کام کرتی رہی۔پھر آپ نے مرکزی لجنہ کے ساتھ حسب سابق الحاق کر دیا۔یہ عرصہ جوقریبا پانچ سال بنتا ہے۔عجیب رحمتوں اور برکتوں سے بھر پور تھا۔پیارے حضور کی رہنمائی میں کام کے جذبے اور جنون نے بشری داؤد اور خاکسار کو بہت قریب کر دیا۔اُس کے اندر کوئی خاص قوت رواں دواں تھی۔مجھے پتہ نہیں اس کے پاگل پن کو کیا نام دوں۔ایک متحرک فدائی تھی۔ہم ہر وقت جیسے حالت جنگ میں رہتے۔کراچی لجنہ میں نئی توانائی آگئی تھی۔کہیں اصلاح معاشرہ کمیٹی بن رہی ہے، کہیں کیسٹ لائبریریاں ترتیب دی جارہی ہیں۔کوئی جامعہ احمدیہ کی طرز پر خواتین کا کالج کھولنے کا سوچ رہا ہے، کہیں تعلیمی و تربیتی نصاب لکھے جارہے ہیں۔جلسہ ہائے سیرۃ النبی صلی یا تم میں غیر از جماعت مہمانوں کو شامل کرنے کی دوڑ ہے۔کہیں دیوانہ وار دعوت الی اللہ ہو رہی ہے، طبی کیمپ لگ رہے ہیں، سمعی بصری پروگرام اور اصلاح معاشرہ کمیٹیاں بن رہی ہیں اور ایسے کئی سلسلے الہی توفیق سے آگے بڑھتے رہے اور ہماری رپورٹیں خلیفہ وقت سے دعا ئیں لوٹتی رہیں۔اس سرگرم لجنہ کا حصہ بن کر مجھے لگتا کہ لجنہ کراچی میں ہوں اور میں لجنہ کراچی ہوں۔45