سیلابِ رحمت — Page 415
دلداری فرمائیں کہ : میں یہ تو نہیں کہتا کہ میرے دل کی سب باتوں تک آپ اُتر گئی ہیں لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ بند کواڑوں والے گھر کو راستہ چلتے ٹھہر کر نہیں دیکھا بلکہ کواڑ کھول کر اندر سے بھی جائزہ لیا ہے۔۔۔ایک اور بات یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ کواڑ کھلوائے نہیں خود کھولے ہیں۔یعنی آپ کی اپنی 66 چابی سے ہی تالے کھل گئے ہیں۔“ جس کی تحریر میں یہ طاقت اور جادو ہو کہ وہ اللہ تعالی کے خلیفہ کے دل کو اپنی چابی سے کھول لے اس کی کسی بات پر کیا تبصرہ ہو۔باری! تمہیں بہت مبارک ہو کراچی لجنہ اور دوسرے چاہنے والوں کا تم سے اور تمہارا ان سے محبت و اخلاص قابل رشک ہے۔تمہاری تحریر کے ایک ایک فقرہ میں فطری عاجزی اور انکساری سمائی ہوئی ہے بہت جگہ میں نے دل سے چاہا کہ کاش میں بھی ان نیک کاموں میں شامل ہوتی اور دین کی خدمت کرنے کی سعادت حاصل کر سکتی۔لیکن پھر بھی بہت خوش ہوں باری ہماری ہے جو اُس کو سعادت ملی ہے اور جو اُس نے اپنی صلاحیتوں سے مقام حاصل کیا ہے وہ حقدار ہے کہ اُن خوشیوں کا مزالے جو اللہ میاں نے اُس کی جھولی میں ڈالی ہیں۔اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اُس کی رحمتوں کے جھولے میں جھولے اور اللہ تعالی کی پیار بھری نظریں ہمیشہ اُس پر سایہ بن کر اُس کی حفاظت کرتی رہیں۔اللہ پاک خود اس کی جزا بن جائے اور دین ودنیا میں حامی و ناصر ہو۔آمين اللهم آمین صفیه بشیر سامی 411