سیلابِ رحمت — Page 401
میری جھولی کے لعل و جواہر کلام طاہر کی تیاری کے مہ و سال میرے زندگی کا سنہری دور تھا۔گل تو ہوتے ہی حسین ہیں خار بھی بہت حسین تھے۔حضور انور کی خدمت میں خط لکھنا چھیڑ خوہاں سے چلی جائے اسد والا معاملہ نہیں ہوتا۔جان و ایمان بہتھیلی پر رکھا ہوتا ہے۔آپ کی طرف سے جواب موصول ہوتا تو ہر دفعہ یہ سوچ کر کھولتی کہ لکھا ہوگا: عزیزہ ! اگر مبلغ علم کی کوتاہ قامتی کا یہ عالم ہے تو زحمت نہ ہی کریں۔جزاکم اللہ “ مگر آپ نے بڑے تحمل و برداشت بلکہ صبر سے میری کوتاہیوں سے صرف نظر فر ما یا اور سمجھا سمجھا کر حوصلہ بڑھاتے رہے۔میری جھولی میں ایسے لعل و جواہر بھی ہیں جن پر مجھے بجا طور پر عاجزانہ فخر ہے۔یہ بھی کلیۂ آپ کا حسن نظر ہے۔رکھتی نہیں ترتیب سے یادیں کبھی لیکن باندھا ہے ترے نام کا اک باب علیحدہ میرے اس علیحدہ باب میں الگ باندھ کے رکھا ہوا ایک مکتوب مجھے بے حد عزیز ہے۔اس میں پیارے آقا کی شخصیت کے کئی روپ کھلتے ہیں۔دست مبارک سے تحریر فرمایا: 397